یہ ہنسنا کیسا؟
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیایک نوجوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا ہنسنے میں مشغول تھا۔آپ نے اس سے ارشاد فرمایا:اے نوجوان !کیا تو پُل صِراط سے گزرچکا ہے؟اس نے عرض کی:نہیں۔آپ نے دریافت فرمایا:کیا تو جانتا ہے کہ تونے جنت میں جانا ہے یا دوزخ ٹھکانہ ہے ؟نوجوان نے عرض کی:جی نہیں۔ارشاد فرمایا:تو پھر یہ ہنسنا کیسا ہے؟اس دن کے بعد کسی نے اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا۔
میں پُر امن نہیں ہوں:
حضرت سیِّدُنا حماد بن عبدُربِّہٖ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب بیٹھتے تو قدموں کے بل بیٹھتے۔عرض کیا گیا :آپ اطمینان سے کیوں نہیں بیٹھتے ؟ارشاد فرمایا:وہ امن والوں کا بیٹھنا ہے اور میں پُر امن نہیں ہوں کیونکہ میں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے۔
حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بندوں پر رحمت فرماتے ہوئے ان کے دلوں میں غفلت کو پیدا فرمایا ہے تاکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے ہلاک نہ ہوجائیں۔
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:میں نے لوگوں کو یہ حکم دینے کا ارادہ کیا ہے کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے بیڑیاں اورطوق پہنا کراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کریں (یعنی دفن کریں)جس طرح بھاگے ہوئے غلام کو اس کے آقا کے پاس پیش کیا جاتا ہے۔
دھوکا مت کھاؤ:
حضرت سیِّدُناحاتم اَصمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا فرمان ہے:کسی اچھی جگہ موجودگی سے دھوکا مت کھاؤ کیونکہ جنت سے بہتر کوئی مقام نہیں ہوسکتا لیکن وہاں موجود گی کے باوُجود حضرت سیِّدُنا آدمعَلَیْہِ السَّلَام سے اجتہادی خطا واقع ہوئی۔عبادت کی کثرت سے دھوکامت کھاؤ کیونکہ ابلیس اپنی طویل عبادت کے باوُجوداللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قہر وغضب کاشکار ہوا۔علم کی کثرت کے سبب دھوکے کا شکار مت بنو کیونکہ بلعم بن باعورا کے پاس اسمِ اعظم کا علم تھا اس کے باوُجود وہ ہلاک ہوگیا۔نیک بندوں کی زیارت سے بھی دھوکا مت کھاؤکیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ