تو آپ نے ایک چیخ ماری اور پھر چار مہینے تک بیمار رہے ،بصرہ کے اطراف سے لوگ ان کی عیادت کے لئے آیا کرتے ۔
حکایت:ایک بچی کا خوفِ خدا
حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:میں خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھا کہ میں نے ایک عبادت گزار بچی کو دیکھا جو غلافِ کعبہ سے لپٹ کر بارگاہِ خداوندی میں عرض کررہی تھی:اے میرے رب!کتنی ہی ایسی نفسانی خواہشات ہیں جن کی لذت ختم ہوگئی لیکن ان کا گناہ باقی ہے۔اے میرے رب!کیا تیرے یہاں ادب سکھانے اور عذاب دینے کے لئے دوزخ کے علاوہ کوئی اورمقام نہیں ہے؟یہ کہہ کر وہ روتی رہی اور طلوعِ فجر تک وہیں موجود رہی۔حضرت سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں:جب میں نے ایک بچی کا یہ معاملہ دیکھا تو اپنے سرپر ہاتھ رکھ کر چیخ کر کہنے لگا:مالک کی ماں اسے روئے (جب ایک بچی کے خوف کا یہ عالم ہے تومجھےکس قدر خوف کرنا چاہئے)۔
منقول ہے کہ عَرَفَہ (یعنی9ذُوالْحِجَّةِ الْحَرام)کے دن جبکہ لوگ دعا میں مشغول تھے تو حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھا گیا کہ وہ اس طرح رورہے ہیں جیسے گمشدہ بچے کی دل جلی ماں روتی ہے۔آپ پر یہی کیفیت طاری رہی یہا ں تک کہ جب غروبِ آفتاب کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی داڑھی پکڑ کر آسمان کی طرف سر اٹھایا اور عرض کی:اگر تو نے مجھے بخش دیا تب بھی مجھے اپنے آپ پر شرم آئے گی پھر دیگر لوگوں کے ساتھ عرفات سے واپس تشریف لے گئے۔
خائفین کے اوصاف:
حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے خوفِ خدا رکھنے والوں کے اوصاف پوچھے گئے تو ارشاد فرمایا:ان کے دل خوف سے زخمی ہوتے ہیں،آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور وہ کہتے ہیں:ہم کیسے خوش ہوسکتے ہیں جبکہ موت ہمارے پیچھے اور قبر ہمارے آگے ہے،قیامت ہمارے وعدے کا دن ہے ، ہمیں جہنم کے اوپر سے گزرنا ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ جو ہمارا رب ہے اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔