تلاوت کا اثر:
مُضَرُ الْقارِی نے ایک دن اس آیتِ مقدسہ کی تلاوت کی: ہٰذَا کِتٰبُنَا یَنۡطِقُ عَلَیۡکُمۡ بِالْحَقِّؕ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنۡسِخُ مَا کُنۡتُمْ تَعْمَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾(پ۲۵،الجاثیة:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:ہمارا یہ نوشتہ تم پر حق بولتا ہے ہم لکھتے رہے تھے جو تم نے کیا۔
اسے سن کر حضرت سیِّدُنا عبدُالواحد بن زید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اتنا روئے کہ آپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، جب اِفاقہ ہوا توبارگاہِ خداوندی میں عرض کرنے لگے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!تیری عزت کی قسم!میں ہمیشہ اپنی طاقت بھر تیری نافرمانی سے بچتا رہوں گا ،تو اپنی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔
حکایت:قرآن سن کر جان دے دی
حضرت سیِّدُنا مِسْوَر بن مَخرَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخوفِ خدا کی شدت کے باعث قرآن سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے،ان کے پا س قرآنِ پاک کا کوئی حرف یا آیت پڑھی جاتی تو چیخ مارتے اور پھر کئی دن تک ہوش میں نہ آتے۔ایک دفعہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے ان کے سامنے یہ دو آیات پڑھ دیں: یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾ وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ﴿ۘ۸۶﴾(پ۱۶،مریم:۸۶،۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمٰن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکراور مجرموں کو جہنّم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔
حضرت سیِّدُنا مِسْوَر بن مَخرَمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہان آیاتِ مقدسہ کو سن کر فرمانے لگے:میں متقین میں سے نہیں بلکہ مجرمین میں سے ہوں۔اے قاری!مجھے یہ آیات دوبارہ سناؤ۔اس شخص نے دوبارہ ان آیاتِ مبارکہ کی تلاوت کی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایک چیخ ماری اور آپ کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔
حضرت سیِّدُنایحییٰ بُکاءرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے سامنے اس آیتِ مقدسہ کی تلاوت کی گئی:
لَوْ تَرٰۤی اِذْ وُقِفُوۡا عَلٰی رَبِّہِمْ ؕ (پ۷،الانعام:۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اورکبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے۔