طاری تھی اور آپ اپنے ہاتھوں کو الٹ پلٹ کر فرمارہے تھے:میں نے رحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ کو دیکھا ہے لیکن آج میں ان جیسی کوئی بات نہیں پاتا۔وه حضرات اس حالت میں صبح کرتے کہ ان کے بال بکھرےہوئے ،چہرے زرد اور غُبار آلود ہوتے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان سجدوں کے نشانات ہوتے۔ان کی راتیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سجدوں میں اور قیام کی حالت میں تلاوتِ قرآن میں گزرتیں اور وہ باری باری اپنی پیشانی اور پاؤں کو عبادت کے لئے استعمال کرتے(کبھی سجدہ کرتے اور کبھی قیام)۔ جب صبح ہوتی اور یہ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو یاد کرتے تو اس طرح سے کانپتے جیسے سخت ہوا کے دن میں درخت ہلتے ہیں اور ان کی آنکھیں اس قدر آنسو بہاتیں کہ ان کے کپڑے بھیگ جاتے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!اب میں ایسے لوگوں کے ساتھ ہوں جو غفلت کی حالت میں رات گزارتے ہیں۔اتنا فرمانے کے بعد آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں سے تشریف لے گئے اور پھر آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ ابن مُلجم نے آپ کو زخمی کردیا۔
حضرت سیِّدُنا عمران بن حَصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:میری یہ خواہش ہے کہ میں راکھ ہوتا جسے آندھی کے دن میں ہوا بکھیردیتی۔
حضرت سیِّدُنا ابوعُبَیْدَہ بن جَرَّاح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا:میری یہ تمنا ہے کہ میں مینڈھا ہوتا، میرے گھر والے مجھے ذبح کرکےمیرا گوشت کھالیتے اور شوربہ پی لیتے۔
چہرے کا رنگ زرد ہوجاتا:
حضرت سیِّدُنا امام زین العابدین علی بن حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب وضو فرماتے تو آپ کے چہرۂ مبارک کا رنگ زرد ہوجاتا،گھر والے عرض کرتے کہ آپ کو وضو کے وقت کیا ہوجاتا ہے ؟ارشاد فرماتے:کیا تم جانتے نہیں کہ میں کس کے سامنے کھڑا ہونے والا ہوں؟
حضرت سیِّدُنا موسٰی بن مسعودعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَدُوْدفرماتے ہیں:ہم جب حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی صحبت میں حاضر ہوتے تو ان کا خوف اور گھبراہٹ دیکھ کر ہمیں ایسا محسوس ہوتا جیسے ہمارے اردگرد آگ موجود ہے۔