چیز نہ ہوتا،اے کاش!میں بُھولا بسرا ہوجاتا،کاش !میری ماں مجھے نہ جنتی۔
چہرے پر دو لکیریں:
کثرت سے رونے کے سبب امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرۂ مبارک پر دو سیاہ لکیریں بن گئی تھیں۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:جس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف ہوتا ہےوہ اپنے غصے کو ٹھنڈا نہیں کرتا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے والا اپنی مرضی نہیں چلاتا اور اگر قیامت کا دن نہ ہوتا تو جو کچھ تم دیکھ رہے ہو اس کے علاوہ کوئی اور مُعاملہ ہوتا۔
ایک روز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سورۂ تکویر کی تلاوت شروع فرمائی،جب اس آیتِ مقدسہ پر پہنچے:
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ۱۰﴾ (پ۳۰،التکویر:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جب نامَۂ اعمال کھولے جائیں۔
تو بے ہوش ہوکر زمین پر تشریف لے آئے۔
ایک مہینہ بیمار رہے:
ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا گزرایک شخص کے گھر کے پاس سے ہوا جو نماز پڑ ھ رہا تھا اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کررہا تھا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہرُک کر تلاوت سننے لگے۔جب وہ شخص تلاوت کرتے کرتے اس مقام پر پہنچا:
اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۙ﴿۷﴾ مَّا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ ۙ﴿۸﴾ (پ۲۷،الطور:۸،۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تیرے رب کا عذاب ضرور ہونا ہےاسے کوئی ٹالنے والا نہیں۔
تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے دراز گوش سے نیچے تشریف لاکر دیوار کے سہارے کھڑے ہوگئے اور کافی دیر تک ان آیات میں غور وفکر فرماتے رہے ،اس کے بعد اپنے گھر واپس تشریف لائے اور ایک مہینے تک بیمار رہے۔لوگ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی عیادت کے لئے آتے تھے لیکن کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ آپ کی بیماری کا سبب کیا ہے۔
صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی کیفیت:
حضرت سيدناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے ایک دن نمازِ فجر کا سلام پھیراتو آپ پرغم کی کیفیت