Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
540 - 882
نویں  فصل:		صحابۂ  کرام،تابعینِ عظام اورسلف صالحین کا خوفِ خدا
سیِّدُناصِدِّیْقِ اَکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکاخوف:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا  ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک دن  پرندے کو دیکھ کر ارشاد فرمایا: اے پرندے!کاش میں تیری طرح ہوتا اور مجھے انسان نہ بنایا جاتا۔(1)
سیِّدُنا ابوذررَضِیَ اللہُ عَنْہکاخوف:
	حضرت سیِّدُنا  ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کا فرمان ہے:میری یہ خواہش ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔حضرت سیِّدُنا  طلحہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی یہی ارشاد فرمایا۔
سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہکا خوف:
	حضرت سیِّدُنا  عثمانِ غنیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(خوفِ خداکے باعث)فرمایاکرتے تھے:میں یہ چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد مجھے دوبارہ نہ اٹھایا جائے۔
سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَاکاخوف:	
	اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا فرمان ہے:میں یہ چاہتی ہوں کہ بُھولی  بسری ہوجاؤں۔
سیِّدُنافاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہکاخوف:	
	منقول ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب قرآنِ پاک کی کوئی آیت سنتے تو خوفِ خدا کے سبب بےہوش ہوکر زمین پر تشریف لےآتے اور پھر کئی دن تک آپ کی حالت ایسی ہوتی کہ لوگ آپ کی عیادت کے لئے آیا کرتے۔
	ایک روز آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے زمین سے ایک تنکا اٹھا کر فرمایا:کاش!میں یہ تنکا ہوتا ،کوئی قابلِ ذکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین ،۱/ ۳۸۱