Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
54 - 882
 کے مطابق جھوٹی قسم اسے کہتے ہیں”جس کے ذریعے ناحق طریقے پرکسی مسلمان کا مال لے لیا جائے اگرچہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔“(غموس کا مطلب غوطہ دیناہے اور)اس قسم کو”یمیْنِ غَمُوس“اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے مُرتکِب کو نارِدوزخ میں غوطے دے گی ۔
جادوکسے کہتے ہیں؟
	”ہروہ کلام جادو ہے جو انسان اورتمام اجسام کی اصلی تخلیق کو بدل دے۔“
	تین گناہوں کا تعلّق پیٹ سے ہے:(۱)خمر(انگورکی شراب) اور ہر نشہ آور شراب پینا (۲)ظلماًیتیم کا مال کھانا (۳)معلوم ہونے کے باوُجود سود کھانا۔
	دو گناہوں کا تعلق شرم گاہ سے ہے:(۱)زِنا (۲)لَواطَت (بدفعلی)۔
	دو گناہ ہاتھوں سے تعلق رکھتے ہیں:(۱)قتل (۲)چوری۔
	ایک گناہ کا تعلق پاؤں سے ہے اور وہ ہے جنگ کے دن لشکر سے بھاگ جانا یوں کہ ایک دو کے مقابلے سے اور 10 افراد 20 کے مقابلے سے بھاگ جائیں۔
	ایک گناہ کا تعلق پورے جسم سے ہے اور وہ ماں باپ کی نافرمانی ہے۔
والدین کی نافرمانیاں:
	حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی مزیدفرماتے ہیں: والدین کی نافرمانیوں میں سے مِن جملہ یہ بھی ہے کہ وہ کسی حق کے معاملہ میں اس (اولاد)پر قسم کھابیٹھیں تو ان کی قسم پوری  نہ کرے، وہ اس سے کوئی حاجت پوری کرنے کا سوال کریں تو پوری نہ کرے، وہ اسے بُرابھلا کہیں تو انہیں مارے اور وہ بھوکے ہوں توانہیں کھانا نہ کھلائے۔
امام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَہ کا تبصرہ:
	حضرت سیِّدُنا ابوطالب مکیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کایہ قول مقصود سے قریب ہے لیکن اس سے کامل فائدہ حاصل نہیں ہوتا کیونکہ اس میں کمی بیشی ممکن ہے۔ انہوں نے مال کے متعلق گناہ یعنی سود اور مالِ یتیم کھانے