جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی:
حضرت سیِّدُنازکریا عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک روز حضرت سیِّدُنا یحیٰی عَلَیْہِ السَّلَام سے ارشاد فرمایا:میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّسے تمہارے ملنے کا سوال اس لئے کیا تھا تاکہ میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ حضرت سیِّدُنا یحیٰی عَلَیْہِ السَّلَام نےعرض کیا:ابا جان!حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے مجھے بتایا ہےکہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے جسے صرف رونے والے ہی عُبُور کرسکیں گے۔حضرت سیِّدُنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا:اے بیٹے!رویا کرو۔
حضرت سیِّدُناعیسٰیعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ارشادفرمایا:اےحواریوں کے گروہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف اور جنَّتُ الفردوس کی محبت، مَشَقَّت پر صبراور دُنیا سے دوری کا جذبہ پیدا کرتےہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جنت الفردوس کی طلب میں جو کی روٹی کھانا اور کچرے کے ڈھیر پر کتوں کے ساتھ سونا بھی کم ہے۔
میں اپنے خلیل ہونے کو بھول جاتا ہوں:
حضرت سیِّدُنا ابراہیمخَلِیْلُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو جب اپنی خطایاد آتی تو آپ پر غشی طاری ہوجاتی اور آپ کے د ل کی دھڑکن کی آواز ایک میل کے فاصلے سے سنائی دیتی۔حضرت سیِّدُنا جبریْلِ امین عَلَیْہِ السَّلَامآپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کرتے:اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کو سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا آپ نےکوئی ایسا دوست دیکھا ہے جو اپنے دوست سے ڈرتا ہو؟آپ عَلَیْہِ السَّلَامفرماتے:اے جبریل!جب مجھے اپنی اجتہادی خطا یاد آتی ہے تو میں اپنے خلیل ہونے کو بھول جاتا ہوں۔
انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جو کہ تمام مخلوق سے زیادہاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کی صفات کی معرفت رکھنے والے ہیں خوفِ خُدا کے مُعاملے میں ان کا یہ حا ل ہے ،آپ بھی ان کےاحوال میں غور وفکر کیجئے۔
ان تمام حضرات پر اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے دیگر تمام مقرب بندوں پر اس کی رحمت ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے لئے کافی ہے اوروہ کیا ہی اچھا کارساز ہے۔
( صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ﴾