گئے ،دن کو بیت المقدس کی خدمت(صفائی ستھرائی)کرتےاور رات میں چراغ روشن فرماتے۔جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی عمرِ مبارک پندرہ سال کی ہوئی تو بیت المقدس کے بجائے پہاڑوں اور غاروں میں رہائش اختیار فرمالی۔آپ کے والدین آپ کی تلاش میں نکلےتو آپ کو بحیرۂ اردن کے کنارے اس حال میں پایا کہ آپ نے اپنےدونوں پاؤں پانی میں ڈال رکھے ہیں،سخت پیاس کا شکار ہیں او راللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں عرض کررہے ہیں:تیری عزت وجلال کی قسم!میں اس وقت تک ٹھنڈا پانی نہیں پیوں گا جب تک مجھے اس بات کا علم نہ ہوجائے کہ تیری بارگاہ میں میرا کیا مقام ہے؟والدین نے آپ سے کہا کہ جو کی اس روٹی سے افطار کرلیں جو ہم ساتھ لائے ہیں اور پانی پی لیں۔آپ نے ایسا ہی کیا اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے والدین کے ساتھ حُسْنِ سُلُوک کےحوالے سے آپ کی تعریف فرمائی۔(1)آپ عَلَیْہِ السَّلَامکے والدین آپ کو واپس بیت المقدس لے گئے۔جب آپ نماز میں قیام فرماتےتواتنا روتے کہ درخت اور پتھربھی آپ کے ساتھ رونے لگتے اور آپ کے رونے کےسبب حضرت سیِّدُنا زکریاعَلَیْہِ السَّلَام بھی اس قدر روتے کہ بے ہوش ہوجاتے۔
کثرتِ گِریہ کے سبب رخساروں کا گوشت پھٹ گیا:
حضرت سیِّدُنایحییٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی گریہ وزاری کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ آنسوؤ ں نے آپ کےمبارک رخساروں کے گوشت کو پھاڑ دیا جس کے سبب دیکھنے والوں کو آپ کی داڑھیں نظر آتی تھیں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی والدہ نے آپ سے فرمایا:اے بیٹے !اگر تم اجازت دو تو میں کوئی ایسی چیز بنادوں جس سے تمہاری داڑھیں نظر نہ آئیں،آپ نے اجازت دے دی۔والدہ محترمہ نے اونی کپڑےکے دو ٹکڑے لے کر آپ کے مبارک رخسارو ں پر چپکادیئے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامجب نماز میں کھڑے ہوکر روتے اور آپ کےمبارک آنسوؤں سے نمدے کے وہ ٹکڑے بھیگ جاتے تو آپ کی والدہ محترمہ انہیں نچوڑتیں۔حضرت سیِّدُنایحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام جب اپنے آنسوؤں کو والدہ کی کلائیوں پر بہتا دیکھتے تو بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے: اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ ! یہ میرے آنسو ہیں ،یہ میری والدہ ہیں ،میں تیرا بندہ ہوں اور تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…چنانچہ قرآن پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: وَّبَرًّۢابِوَالِدَیۡہِ ترجمۂ کنز الایمان:اوراپنے ماں باپ سے اچھا سلوک کرنے والا تھا۔ (پ۱۶،مریم:۱۴)