Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
537 - 882
 دروازے کے پاس بیٹھ جاتےاور اجازت طلب کرتے،پھر جو کی روٹی لے کر اندر جاتے اور عرض کرتے:ابا جان!اس روٹی کو تناول فرماکر عبادت پر مدد حاصل کیجئے۔حضرت سیِّدُنا  داؤد عَلَیْہِ السَّلَاماس روٹی میں سے جس قدر چاہتے تناول فرماتے اورپھر بنی اسرائیل کے پاس تشریف لاکر ان کے درمیان قیام فرماتے۔  
30ہزار سامعین کی وفات:
	حضرت سیِّدُنایَزِیْد رَقاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتےہیں:حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ایک بار چالیس ہزار کےمجمع میں تشریف لائے تاکہ انہیں نصیحت فرمائیں  اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا خوف دلائیں۔ آپعَلَیْہِ السَّلَام کے پُر اثر بیان کو سن کر ان میں سے تیس ہزار افراد کی روحیں پرواز کرگئیں اور صرف دس ہزار لوگ زندہ واپس گئے۔
	حضرت سیِّدُنا  یزید رقاشیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کا مزید بیان ہےکہ حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دو لونڈیاں تھیں جن کی یہ ذمہ داری تھی کہ جب آپ پر خو ف کی کیفیت طاری ہو اور آپ زمین پر گر کر کانپنے لگیں تو وہ آپ کے سینے اور ٹانگوں کو پکڑ لیتی تھیں کہ کہیں آپعَلَیْہِ السَّلَام کے اعضاء اور جوڑ الگ الگ ہونے کی وجہ سے وصال نہ ہوجائے۔
سیِّدُنایحییٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا خوف:
	حضرت سیِّدُناابن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنایحییٰ بن زکریا عَلَیْہِمَاالسَّلَام  آٹھ سال کی عمر میں بیت المقدس تشریف لے گئے تو وہاں موجود عبادت گزاروں کو دیکھا کہ انہوں نے بالوں اور اون کا لباس پہن رکھا ہے جبکہ ان میں سے جو عبادت میں زیادہ کوشش کرنے والے تھے انہوں نے اپنے گلے کی ہڈیوں میں سوراخ کرکے اور ان میں زنجیریں ڈال کر اپنے آپ کو بیت المقدس کے ستونوں سے باندھ رکھا ہے،یہ منظر دیکھ کر آپ خوف زدہ ہوگئے۔پھر جب وہاں سے اپنے والدین کی طرف واپس آنے لگےتو کچھ بچوں کے پاس سےگزر ہوا جو کھیل رہے تھے،انہوں نے آ پ سے کہا:اے یحییٰ!آؤتم بھی ہمارے ساتھ کھیلو۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا:مجھے کھیلنے کے لئے نہیں بنایا گیا۔آپ اپنے والدین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ مجھے بھی بالوں کا لباس بنادیں،انہوں نے ایسا ہی کیا تو آپ اس لباس کو پہن کر بیت المقدس تشریف لے