یہ اعلان سن کر صحراؤں اور ٹیلوں سے وحشی جانور،جنگلات سے درندے،پہاڑوں سے حَشْراتُ الاَرْض ، گھونسلوں سے پرندے اور پردہ نشین عورتیں اپنے گھروں سے نکل آتیں اور لوگ اس دن کے لئے جمع ہوجاتے۔حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام تشریف لاکر منبرپر جلوہ افروز ہوتے ،بنی اسرائیل آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور دیگر جانور پرندے وغیرہ بھی آپ کےقریب حاضرہوجاتےجبکہ حضرت سیِّدُناسلیمان عَلَیْہِ السَّلَام آپ کےسرکے پاس کھڑےہوجاتے۔حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَاماللہعَزَّوَجَلَّ کی حمدوثناء سےآغاز فرماتےتوحاضرین میں رونا دھونا مچ جاتا،پھر جنت ودوزخ کا ذکر شروع کرتےتوحشرات الارض،وحشی جانوروں،درندوں اور انسانوں میں سے متعدد کی موت واقع ہوجاتی۔اس کے بعد قیامت کی سختیوں اور تکلیفوں کا بیان فرماتےاورروتےتوحاضرین کے ہر گرو ہ میں سے ایک تعداد کی روحیں پرواز کر جاتیں۔ حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام جب مرنے والوں کی کثرت دیکھتے تو عرض کرتے:ابا جان! آپ نے سننے والوں کے دل ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ہیں،بنی اسرائیل کےلوگ،وحشی جانوروں اورحشرات الارض کی ایک تعداد ہلاک ہوچکی ہے۔یہ سن کرآپ عَلَیْہِ السَّلَامدعا میں مشغول ہوجاتے تواسی دوران بنی اسرائیل کا کوئی عابد کہتا:اے داؤد!آپ نے اپنے رب سے جزا مانگنے میں جلدی کی ہے،یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام بے ہوش ہوکر زمین پر تشریف لے آتے۔حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَامیہ دیکھ کرایک چارپائی لاتے اور آپ کو اس پر لٹادیتے،پھر ایک شخص کو حکم دیتے کہ وہ یہ اعلان کرے:اگر کسی شخص کا دوست یا رشتے دارحضرت سیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکے اجتماع میں حاضر تھا تو وہ چارپائی لے کر آئے اور اٹھاکر لے جائے کیونکہ جو لوگ آپ کی مجلس میں شریک تھےانہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور جنت ودوزخ کے تذکرے نے ہلاک کردیا ہے۔چنانچہ ایک عورت چارپائی لاتی اور اپنے عزیز کو اس پر رکھ کر کہتی:اے وہ شخص جسے دوزخ کے تذکرے نےموت کے گھاٹ اتاردیا!اے وہ شخص جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف نے ہلاک کردیا۔
حضرت سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَامجب ہوش میں آتے تو کھڑےہوجاتے،سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے عبادت کے کمرے میں تشریف لے جاکر دروازہ بند کردیتے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض کرتے:اے داؤ د کے رب!کیا تو داؤ د سے ناراض ہے؟پھر مسلسل مناجات میں مصروف رہتے،حضرت سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام آکر