کبھی آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا:
منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے(اپنی لغزش کے بعد)وصالِ ظاہری تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حیا کے سبب کبھی آسمان کی طرف سر نہیں اٹھایا۔
آپعَلَیْہِ السَّلَاماپنی مناجات میں یہ عرض کیا کرتے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!جب میں اپنی خطا کو یاد کرتا ہوں تو زمین اپنی وُسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوجاتی ہےاور جب تیری رحمت کو یاد کرتا ہوں تو میری جان میں جان آتی ہے۔اے اللہعَزَّ وَجَلَّ! تو پاک ہے،میں تیرے بندوں میں سے طبیبوں کے پاس گیا تاکہ وہ میری خطا کا علاج کریں تو سب نے تیری ہی طرف میری راہنمائی کی ہے تو تیری رحمت سے مایوس ہونے والوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ایک دن اپنی لغزش یاد آئی تو آپ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر چیختے ہوئے اٹھے اور پہاڑوں کی طرف تشریف لے گئے ۔درندے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئےتو آپ نے ارشاد فرمایا:واپس چلے جاؤ مجھے تمہاری ضرورت نہیں،میرے پاس صرف وہ آئے جو اپنی خطاؤں پر رونے والا ہو اور میرے پاس روتا ہوا ہی آئے اور جو خطاکار نہ ہوتو اس کا مجھ خطاکار سے کیا کام ہے۔
جب آپعَلَیْہِ السَّلَام کی خدمت میں کثرت سے روتے رہنے کے بارے میں عرض کیا جاتا تو آپ ارشاد فرماتے:مجھے رونے دو اس سے پہلے کہ رونے کا دن گزر جائے ،ہڈیاں جلنے لگیں اورآنتیں بھڑک اٹھیں،اس سے پہلے کہ میرے بارے میں ان سخت فرشتوں کوحکم دیا جائے جواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور انہیں جو حکم ہو وہی کرتے ہیں۔
حضرت سیِّدُنا عبدالعزیز بن عمرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سےخطائے اجتہادی واقع ہوئی تو آپ کی آواز بیٹھ گئی۔آپ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!صِدِّیْقِیْن کی آواز صاف ہے اور میرا گلا بیٹھ گیا ہے۔
اِطاعَت کی اُنْسِیَّت اور لغزش کی وحشت:
منقول ہے کہ جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے طویل عرصے تک رونے کے باوجود اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو آپ کا دل