Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
533 - 882
اس پر رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےتمہیں نہ تو مال جمع کرنےکا حکم فرمایا ہے اور نہ خواہشات کی پیروی کا تو جو شخص دینار جمع کرے اور ان کے ذریعے ہمیشہ کی زندگی چاہے اسے جان لینا چاہئے کہ زندگی تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دستِ قدرت میں ہے۔جان لو کہ میں نہ تو درہم ودینا ر جمع کرتا ہوں اور نہ ہی اگلے دن کا رزق  ذخیرہ کرتا ہوں۔(1)
سینے کی دھڑکن ایک میل تک سنی جاتی:
	حضرت سیِّدُنا  ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا  ابراہیمخَلِیْلُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لئے کھڑے ہوتےتو خوفِ خدا کے سبب آپ کے سینے سے آنے والی آواز ایک میل تک سنی جاتی تھی۔
سیِّدُنا داؤدعَلَیْہِ السَّلَامکی گریہ وزاری:
	حضرت سیِّدُنا  مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدفرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا داؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممسلسل 40 دن تک سجدے کی حالت میں روتے رہے اور سر نہ اٹھایا یہاں تک کہ آپ کےآنسوؤں سے گھاس اگ آئی جس نے آپ کے سر کو ڈھانپ لیا ۔غیب سے ندا آئی:اے داؤد !کیا آپ بھوکے ہیں کہ آپ کو کھانا کھلایا جائے،پیاسے ہیں کہ پانی پلایا جائے یا بے لباس ہیں کہ لباس پہنایا جائے؟یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایسی چیخ ماری کہ آپ کے خوف کی گرمی سے لکڑی خشک ہوکر جل گئی۔پھراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے آپ کو توبہ کی قبولیت اور مغفرت کا پروانہ  عطا فرمایا تو آپ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ!میری اجتہادی خطا کو میری ہتھیلی میں ظاہر فرمادے۔چنانچہ آپ کی خطائے اجتہادی آپ کی ہتھیلی میں تحریر کردی گئی اور آپ جب بھی کھانے یا پینے کے لئے اپنی ہتھیلی کھولتے تو اس میں یہ تحریر دیکھ کر رونے لگتے۔
	حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدمزیدفرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی  خدمت میں برتن حاضر کیا جاتا جس میں دو تہائی پانی ہوتا ۔جب آپ اسے پکڑتےاور ہتھیلی پر لکھی  خطا کو ملاحظہ کرتے تو اس قدر گریہ فرماتے کہ برتن کو ہونٹوں تک لے جانے سے پہلے وہ آنسوؤ ں سے لبریز ہوجاتا۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اخلاق النبی وادابہ،ذکرمحبتہ للیتامی فی جمیع افعالہ،ص۱۵۹،حدیث:۸۳۱