نہیں ہیں۔ارشادِ خداوندی ہوا:”اسی طرح رہنا ،میری خفیہ تدبیر سے بے خوف مت ہونا۔“
حضر ت سیِّدُنا محمد بن مُنکَدِررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے:جب دوزخ کو بنایا گیا تو فرشتوں کے دل ان کے سینوں سے باہر آگئے،پھر جب انسان کو پید ا کیا گیا تو وہ اپنی جگہ واپس آئے۔
کبھی ہنستے نہیں دیکھا:
حضرت سیِّدُنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَام سے استفسار فرمایا:کیا بات ہے کہ میں نے میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا؟انہوں نے عرض کی:جب سے دوزخ کو پیدا کیا گیا ہے میکائیلعَلَیْہِ السَّلَام کبھی نہیں ہنسے۔ (1)
منقول ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کچھ فَرِشتے ایسے ہیں کہ جب سے دوزخ کو پیدا کیا گیا ہے ان میں سے کوئی بھی اس ڈر سے نہیں ہنسا کہ کہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے ناراض ہوکر انہیں عذابِ جہنم میں مبتلا نہ فرمادے۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:میں حضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےہمراہ باہر نکلا اور ہم انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکھجوریں چن کر کھانے لگے اور مجھ سے ارشاد فرمایا:اے ابنِ عُمَر!تم کیوں نہیں کھا رہے؟ میں نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے خواہش نہیں ہے۔ارشاد فرمایا:لیکن مجھے خواہش ہےاور یہ چوتھی صبح ہے کہ میں نے کوئی کھانا پایا نہ اسے چکھا ہے اوراگر میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو وہ ضرور مجھے قیصر وکسرٰی کی حکومت عطا فرمادے۔اے ابنِ عمر!اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم ایسے لوگوں کے درمیان ہوگے جو ایک سال کا رزق جمع کریں گے اور ان کے دلوں میں یقین کمزور ہوجائے گا؟ حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!ہم اپنی جگہ موجود تھے کہ یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی: وَکَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَہَاۖ٭ اَللہُ یَرْزُقُہَا وَ اِیَّاکُمْ ۫ۖ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الْعَلِیۡمُ ﴿۶۰﴾ (پ۲۱،العنکبوت:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور زمین پر کتنے ہی چلنے والے ہیں کہ اپنی روزی ساتھ نہیں رکھتےاللہ روزی دیتا ہے انہیں اور تمہیں اور وہی سنتا جانتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک،۴/ ۴۴۷ ، حدیث:۱۳۳۴۲