کے خوف سے ہوتی تھی۔ (1)
میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ سورۂ حاقہ کی ایک آیت تلاوت فرمائی توبے ہوش ہوگئے۔(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:
وَ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ (پ۹،الاعراف:۱۴۳) ترجمۂ کنز الایمان:اورموسٰی گرابے ہوش۔
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اَبْطَح کے مقام پر حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صورت دیکھی تو بے ہوش ہوگئے۔(3)
ایک روایت میں ہے کہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب نماز شروع فرماتے تو سینۂ انور سے اس طرح کی آواز آتی جیسی ہنڈیا کے ابلنے کی آواز آتی ہے۔(4)
سیِّدُناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامکا خوف:
سیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:مَا جَاءَنِیْ جِبْرِيْلُ قَطُّ اِلَّا وَهُوَ يَرْعَدُ فَرَقًا مِّنَ الْجَبَّارِیعنی جبریل عَلَیْہِ السَّلَامجب بھی میرے پاس آتے وہ جبار عَزَّ وَجَلَّکے خوف سے کانپ رہے ہوتے۔(5)
منقول ہے کہ جب ابلیس نے حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سجدہ کرنے سے انکار کیا اور مردود ہوا تو حضرت سیِّدُناجبریل اورحضرت سیِّدُنامیکائیلعَلَیْہِمَاالسَّلَام رونے لگے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دریافت فرمایا:”تم دونوں کو کیا ہوا کہ روتے ہو؟“عرض کی:اے ہمارے رب!ہم تیری خفیہ تدبیر سے بے خوف
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب صلوةالاستتسفاء باب التعوذعندرؤیة الریح والغیم والفرح بالمطر،ص۴۴۶،حدیث: ۸۹۹
بخاری،کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی قولہ:وھو الذی ارسل الرّیاح بشرا بین یدی رحمتہ،۲/ ۳۷۹،حدیث: ۳۲۰۶
2…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۹۶
3…مسندالبزار،مسندابن عباس،۱۱/ ۳۶،حدیث:۴۷۱۸
4…سنن ابی داود، کتاب الصلوة، باب البکاء فی الصلوة،۱/ ۳۴۲،حدیث :۹۰۴
سنن النسائی ، کتاب السھو، باب البکاء فی الصلوة،۱/ ۲۰۸،حدیث :۱۲۱۱
5…العظمة لابی شیخ،ذکرالملائکة الموكلين فی السموات والارضین،ص۱۳۱،حدیث:۳۶۵