جمع کرنا ہے۔اگر آپ نے ٹال مٹول،بہلاووں اور غفلت میں اپنی زندگی گزاردی تو پھر کسی دن اچانک موت کا شکار ہوجائیں گے اور پھر ہمیشہ کی حسرت وندامت آپ کامقدر بن جائے گی۔
گزشتہ صفحات پر ہم نے بُرے خاتمے کے حوالے سے جن اُمور کا بیان کیا ہے اگر یہ آپ کو ڈرانے کے لئے کافی نہیں ہیں اور خوف کی کمزوری کے سبب آپ ہماری بیان کردہ باتوں کو اختیار کرنے پر قادر نہیں ہیں تو ہم عنقریب آپ کے سامنے خائفین کے احوال بیان کریں گےجن کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ ان کے سبب دل کی سختی کافی حد تک دور ہوجائے گی۔ یہ بات آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیا وعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی عقل ،ان کا علم اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک ان کا مقام ہرگز آپ کی عقل،علم اور مقام سے کم نہیں ہے اس کے باوُجود ان حضرات پر خوف کا غلبہ ہوتا تھا ،ان کا غم اور رونا دھونا طویل ہوتا تھا یہاں تک کہ ان میں سے بعض حضرات کی چیخیں نکل جاتیں،بعض کے ہوش اڑجاتے،بعض بے ہوش ہوکر گر پڑتےاور بعض حضرات کی روح پرواز کرجاتی۔اگر ان نُفوسِ قُدسیہ کے حالات پڑھنے کے بعد بھی آپ کےدل پر اثر نہ ہو تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کیونکہ غافل لوگوں کے دل پتھر کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے:
وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الۡاَنْہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ ؕوَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ﴿۷۴﴾ (پ۱،البقرة:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارےکَوْتکَوْں(برے کاموں) سے بے خبر نہیں۔
آٹھویں فصل: انبیائے کِرام اورملائکہ عِظام عَلَیْہِمُ السَّلَام کاخوف خدا
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا بیان ہے کہ جب ہوا بدلتی اور تیز آندھی چلتی توپیارے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چہرۂ انور کا رنگ متغیر ہوجاتا ۔آپ کھڑے ہوجاتے اور حجرۂ مقدسہ میں چکر لگاتے،کبھی اندر تشریف لاتے اور کبھی باہر جاتے اور یہ کیفیتاللہ عَزَّ وَجَلَّ كے عذاب