Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
53 - 882
 فرمایا ہے وہ گناہِ کبیرہ ہے۔
٭…بعض حضرات فرماتے ہیں:جس کام پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جَہَنَّم کی وعید فرمائی ہے وہ کبیرہ ہے۔
٭…ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشادفرماتے ہیں:ہر وہ فعل جس پر دنیا میں حد واجب ہو وہ کبیرہ گناہ ہے۔
٭…ایک قول یہ بھی ہے کہ”کبیرہ گناہ کا مُعامَلہ مَخْفِی ومُبْہَم ہے ان کی تعدادمعلوم نہیں ہوسکتی  جیسے شَبِّ قدراور جمعہ کے دن وہ ساعت جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔“
٭…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ سورۂ نساء شروع سے تیسویں آیتِ مبارکہ تک پڑھ لو جس کے آگے یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ (پ۵،النسآء:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے۔
	اس سورت میں یہاں اس آیتِ طیّبہ تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جن کاموں سے منع فرمایا ہے وہ کبیرہ گناہ ہیں۔
کبیرہ گناہ کے متعلق امام ابوطالب مکی کی تحقیق:
	حضرت سیِّدُنا امام ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے فرمایا:”میں نے کبیرہ گناہوں کو احادیْثِ کریمہ سے جمع کیا تو وہ كل 17ہوئے اورحضرت  سیِّدُنا ابن عباس،حضرت سیِّدُنا ابن مسعود اورحضرت سیِّدُنا ابن عمر وغیرہرِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے فرامین کو جمع کرکے دیکھا جائے تو اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
	چارکبیرہ گناہوں کا تعلق دل سے ہے:(۱)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا (۲)اس کی نافرمانی پر اصرار کرنا یعنی ڈٹے رہنا (۳)اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور (۴)اس کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہونا۔
	چار گناہ زبان سے متعلق ہیں:(۱)جھوٹی گواہی دینا (۲)پاکدامن پر زنا کی تہمت لگانا (۳)جھوٹی قسم کھانا۔ اور (۴)جادو کرنا۔
جھوٹی قسم کسے کہتے ہیں؟
	یمین غَمُوس یعنیٰ جھوٹی قسم وہ ہے”جس سے کسی باطل کو حق یا حق کو باطل ثابت کیا جائے۔“ ایک قول