لباس:
لباس کا مقصود صرف سردی گرمی سے حفاظت اور ستر پوشی ہے ۔جو بھی چیز انسان کے سر کو سردی سے محفوظ رکھے اگرچہ معمولی ٹوپی ہی کیوں نہ ہو،اس کے ہوتے ہوئے مزید کی طلب کرنا فضول میں پڑنا ہے جس کے سبب انسان کا وقت ضائع ہوگا اور وہ دائمی مشغولیت اور مشقت کا شکا ررہے گا ،کبھی مال کما کر اسے حاصل کرنے میں اور کبھی لوگوں کے پا س موجود چیزوں کی لالچ میں چاہے وہ چیزیں حرام یامشتبہ ہی کیوں نہ ہوں۔جن چیزوں کے ذریعے بدن سے سردی اور گرمی کو دور کیا جاتا ہے انہیں بھی ا س پر قیاس کرلیجئے ۔ہر وہ چیز جس سے لباس کا مقصود حاصل ہوجائے اگر بندہ اس کی معمولی مقدار اور ادنیٰ جنس پر اکتفا نہ کرے تو وہ ان لوگوں میں شمار ہوگا جن کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
رہائش:
رہائش کا مُعاملہ بھی یہی ہے کہ اگر انسان صرف مقصود پر اکتفا کرے تو چھت کے طور پر آسمان اور بچھونے کے طور پر زمین کافی ہے اور اگر سردی یا گرمی کا غلبہ ہو تو مساجد میں گزارہ کیا جاسکتا ہے۔انسان اگر کسی مخصوص رہائش گاہ کا طالب ہو تو پھر وہ ایک لمبے چکر میں پڑ جاتا ہے اور اسی میں اس کی عمر کا اکثر حصہ صرف ہوجاتا ہے اور انسان کی عمر ہی اس کی اصل پونجی ہے۔پھر اگر کسی کو مکان بنانے کا موقع مل جائے اور وہ دیوار اور چھت بنانے میں اتنی مقدار پر اکتفا نہ کرے جو لوگوں کی نگاہوں سے چھپائے اور بارش سے بچائے بلکہ دیواروں کو بلند کرنے اور چھت کی تزئین وآرائش میں مشغول ہوجائےتو وہ ایسے گڑھے میں گر چکا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہے۔
انسان کی تمام ضروریات کا یہی عالَم ہے کہ اگر وہ صرف بقدرِ ضرورت مقدار پر اکتفا کرے تو اسے عبادت کے لئے فراغت حاصل ہوگی،آخرت کے لئے زادِ راہ کے حُصول میں کامیاب ہوگا اور اچھے خاتمے کی تیاری بھی ہوجائے گی لیکن اگر مقدارِ ضرورت سے تجاوز کرکے خواہشات کی وادیوں میں داخل ہوگا تو اس کی فکروں میں اضافہ ہوجائے گا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بات کی پروا نہ فرمائے گا کہ اسے کون سی وادی میں ہلاک کیا۔
اے میرے بھائی!اس نصیحت کو اس شخص کی طرف سے قبول کیجئے جوآپ سے زیادہ نصیحت کا حق دار ہے اور اس بات کو اچھی طرح جان لیجئے کہ اسی مختصر سی زندگی میں ہی احتیاط وتدبیرکو اختیار کرنا اور زادِ راہ