صورت میں حاصل ہوسکتی ہے کہ آپ دنیا میں صرف بقدرِ ضرورت مقدار پر قناعت کریں ۔انسان کی اصل ضرورت صرف غذا،لباس اور رہائش ہے ،اس کے علاوہ دیگر سب چیزیں ضرورت سے زائد ہیں۔
غذا:
غذا کی اتنی مقدار ضروری ہے جو پیٹھ کو سیدھا رکھے اورسانس باقی رکھےاس لئے آپ غذا کو اس طرح استعمال کیجئے جیسے کوئی شخص ناپسندیدگی کے باوُجود مجبور ہوکر کسی چیز کو لیتا ہے اور کھانے میں آپ کی رغبت قضائے حاجت میں رغبت سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ کھانے کو پیٹ میں داخل کرنے اور پیٹ سے نکالنے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ یہ دونوں ہی انسان کی فطری ضروریات ہیں۔جس طرح قضائے حاجت انسان کا مقصد نہیں ہوتا کہ اس کا دل اس میں لگا رہے یونہی کھانے کا حُصُو ل بھی اس کا مقصد نہیں ہونا چاہئے۔یہ یاد ر کھئے کہ اگر آپ کی توجہ اس چیز کی طرف ہو جو پیٹ میں داخل ہوتی ہے تو پھر آپ کی قیمت وہ چیز ہوگی جو پیٹ سے خارج ہوتی ہے۔
قضائے حاجت کی طرح اگر کھانے سے بھی بندے کا مقصود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت پر طاقت کا حصول ہو تو اس کی علامت کھانے کے تین معاملات میں ظاہر ہوتی ہے:(۱)…کھانے کے وقت (۲)…اس کی مقدار اور(۳)… اس کی جنس میں۔
(1)…کھانے کے وقت کے سلسلے میں کم از کم درجہ یہ ہے کہ دن رات میں ایک مرتبہ کھانے پر اکتفا کیا جائے اورمسلسل روزے رکھے جائیں۔
(2)…کھانے کی مقدار یہ ہے کہ پیٹ کے تہائی حصے سے زیادہ نہ کھایاجائے۔
(3)…کھانے کی جنس کے مُعاملے میں علامت یہ ہے کہ لذیذ غذاؤ ں کی طلب نہ کرےبلکہ جو مل جائے اس پر قناعت کرے۔اگر کوئی شخص ان تین باتوں پر قادر ہوجائے اور لذیذ شہوتوں کے حُصول کا بوجھ اس سے ساقط ہوجائے تو وہ شبہات سے بچنے پر قادر ہوجائے گا اور اس کے لئے یہ ممکن ہوگا کہ وہ صر ف حلال غِذا کھائے کیونکہ حلال غذ ا کم ملتی ہے اور اگر ملے بھی تو شہوات و لذات کو پورا نہیں کرتی۔