قریب آئے گی تو میں اس کی تیاری کرلوں گاکیونکہ انسان کا ہر سانس ایک طرح سے اس کا آخری سانس ہے کہ اس میں اس کی روح قبض ہوسکتی ہے۔
مذکورہ اُمور تو بیداری سے متعلق تھے،جب سونے کا وقت آئے تو ظاہری اور باطنی طہارت حاصل کرکے سوئیے تاکہ آپ کو ایسی حالت میں نیند آئے کہ دل پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر غالب ہو،اس ذکر سے صرف زبانی ذکر مراد نہیں ہے کیونکہ محض زبان کی حرکت کا اثر کمزور ہوتا ہے۔
اس بات کو اچھی طرح جان لیجئے کہ نیند کی حالت میں انسا ن کے دل پر وہی کیفیت غالب ہوتی ہے جو نیند سے پہلے غالب تھی جبکہ نیندسے بیداری کےوقت وہ کیفیت غالب ہوتی ہے جو نیند کے دوران غالب تھی۔موت اور قیامت کے دن اٹھایا جانا نیند اور بیداری کے مشابہ ہے ۔جس طر ح بندہ اسی حالت پر سوتا ہے جو اس پر بیداری میں غالب ہوتی ہے اور اسی کیفیت پر بیدار ہوتا ہے جو اس پر نیند کے دوران غالب ہوتی ہے یونہی انسان کی موت اسی حالت پرآتی ہے جس پر اس نے زندگی گزاری ہو اور وہ روزِ قیامت اسی حال میں اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی ہو۔
اس بات کو یقینی جان لیجئے کہ جس طرح نیند اور بیداری دو حالتیں ہیں یونہی موت اور روزِ قیامت اٹھایا جانا بھی دو حالتیں ہیں ۔اگرآپ یقین کی نظر اور بصیرت کے نور سے اس بات کا مشاہدہ کرنے کے اہل نہیں ہیں تو پھر دل سے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے اس پر ایمان لائیے ،اپنے ایک ایک سانس اور لمحے کی نگہداشت کرتے رہئے کہ یہ فارغ نہ گزریں اور پلک جھپکنے کی مقدار بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غافل نہ رہئے۔ ہم نے جس قدر ہدایا ت کی ہیں اگر آپ ان سب پر عمل کریں تو پھر بھی بہت بڑے خطرے سے دوچار رہیں تو ان پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کیا حال ہوگا؟علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے علاوہ دیگر تمام لوگ ہلاک ہونے والے ہیں اور علما میں باعمل علمائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے سوا سب ہلاک ہوں گے اور باعمل علما میں مخلصین کے سوا سب ہلاکت میں مبتلا ہوں گے جبکہ مخلصین بھی بہت بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔
انسان کی تین بنیادی ضروریات:
اس بات کو اچھی طرح جان لیجئے کہ ہماری مذکورہ باتوں پر عمل اور موت کی تیاری کی سعادت اسی