Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
526 - 882
 اس کا دل دنیا،اہل وعیال ،مال ودولت اور تمام شہوات کی محبت سے خالی ہوتا ہےجس کا سبب یہ ہے کہ کوئی شخص میدانِ جہاد میں جاکر اپنے آپ کو موت پر اسی لئے پیش کرتا ہے کیونکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کرتا ہے،اس کی رضاچاہتا ہے ،اپنی دنیا کو آخرت کے بدلے بیچتا ہے اور اس سودے پر راضی ہوتا ہے جو اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے کیا ہے۔اللہعَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: 
اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ (پ۱۱،التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشکاللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلئے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لئے جنت ہے۔
	جان ومال کو جنت کے عوض بیچنے والا لازمی طور پر اس  سےبے رغبت ہوتا ہے،اس کی محبت کو اپنے دل سے نکالتا ہے اور اپنے دل کو اس کے  بدلے میں ملنے والی جنت کی محبت کے لئے خالی کرتا ہے ۔اس قسم کی کیفیت بعض اوقات انسان کے دل پر غالب آجاتی ہے لیکن اسی حالت میں موت آنے کا اتفاق بہت کم ہوتا ہے۔جہاد میں شرکت کرنا اسی حالت میں موت آنے کا سبب بنتا ہے اسی لئے شہادت کی موت قابلِ رشک ہے۔
	مذکورہ کلام اس شخص کے بارے میں ہے جس  کا جہاد میں شرکت سے مقصود اقتدار یا مالِ غنیمت کا حُصُول اور اپنی بہادری کی تعریف کروانا نہ ہو کیونکہ جو شخص ان مذموم مقاصد کے لئے جہاد میں شریک ہو وہ اگرچہ جہاد کے دوران اپنی جان دے دے لیکن بیان کردہ فضائل کا حقدار نہیں ہوسکتا(1) جیسا کہ احادیْثِ مبارکہ میں اس بات کی خبر دی گئی ہے۔
	اب جبکہ آپ کےسامنے بُرے خاتمے کا مفہوم واضح ہوچکا ہےاورآپ نے اس بات کو بھی جان لیا ہے کہ اس میں کس بات کا خوف ہے تو اس سے بچنے کی تیاری میں مشغول ہوجانا چاہئے۔اس کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذکر کی پابندی  کیجئے،اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکال دیجئے،گناہوں کے ارتکاب سے اپنے اعضاء کی جبکہ ان کے بارے میں سوچنے سے اپنے دل کی حفاظت کیجئےجہاں تک ممکن ہو گناہوں اور گناہ کرنے والوں کو دیکھنے سےبھی بچئےکیونکہ انہیں دیکھنا بھی دل پر اثر کرتا ہے اور انسان کے دل کو ان کی طرف پھیر کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے غافل کردیتا ہے۔آخرت کی تیاری کے مُعاملے میں ٹال مٹول سے بچئے اور یہ نہ کہئے کہ جب موت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی الریا،۴/ ۱۶۹،حدیث:۲۳۸۹