طرف سے دریا کی موجیں حملہ آور ہوجائیں تو اس کی ہلاکت کے امکانات بچنے کے امکانات سے زیادہ ہوتے ہیں۔مومن کا دل کشتی سے زیادہ مضطرب ہوتا ہے جبکہ قلبی خیالات کی موجیں سمندری موجوں سے زیادہ ٹکرانے والی ہیں اور موت کے وقت اصل خطرہ اور خوف صرف دل میں آنے والے بُرے خیالات سے ہے۔ یہی وہ دلی خیال ہے جس کے متعلق سرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں:” ایک شخص 50سال تک جنتیوں جیسے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف اونٹنی کے دودھ دوہنے کے درمیانی وقفے جتنا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن پھر اس کا انجام تقدیر کے لکھے کے مطابق ہوتا ہے۔“(1)
اونٹنی کےدودھ دوہنے کے درمیانی وقفے میں انسان کوئی ایسا عمل نہیں کرسکتا جو بدبختی کا سبب بنے بلکہ یہ قلبی خیالات ہیں جو چمکنے والی بجلی کی طرح انسان کے دل میں ظاہر ہوتے ہیں۔
300 انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا بُرے خاتمے سے خوف:
حضرت سیِّدُنا سَہْل بن عبد اللہ تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں:خواب میں خود کو میں نے جنت میں پایا جہاں میں نے300انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے ملاقات کی اور ان سب سے یہ سوال کیا کہ آپ حضرات دنیا میں سب سے زیادہ کس چیز سے خوف زدہ تھے؟انہوں نے جواب دیا:بُرے خاتمے سے ۔
شہادت کے قابلِ رشک ہونے کا سبب:
بُرےخاتمے کےعظیم خطرے کے سبب ہی شہادت کی موت قابلِ رشک ہے جبکہ اچانک آنے والی موت ناپسندیدہ ہے۔اچانک آنے والی موت کے ناپسند ہونے کا سبب یہ ہے کہ انسان کے دل میں مختلف قسم کے بُرے خیالات آتے رہتے ہیں اور انہیں کوشش کرکے یا پھرمَعرفت کے نور کے ذریعے ہی دور کیا جاسکتا ہے ، اچانک آنے والی موت میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ اس وقت دل میں بُرے خیالات موجود ہوں ، دل پر ان کا غلبہ ہواور اسی حالت میں موت آجائے۔شہادت کی موت اس لئے قابلِ رشک ہے کہ اس میں بندے کی روح ایسی حالت میں نکلتی ہے کہ اس کے دل میںاللہعَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی کی محبت نہیں ہوتی اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری ، کتاب التوحید، باب ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین،۴/ ۵۶۰،حدیث : ۷۴۵۴
الابانة لابن بطة،باب ماروی فی الایمان بالقدر…الخ،۴/ ۲۰۸،حدیث:۱۷۵۷