خیالات کے علاوہ خواب میں کچھ اور دیکھے۔بُرے خاتمے کے اسباب میں سے ہم اسی قدر بیا ن کرسکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ دیگر باتیں عِلْمِ مُکاشَفہ میں داخل ہیں اور ان کا یہاں بیان کرنا مناسب نہیں ہے۔
ہم نے جو کچھ بیان کیا اس سے آپ پر یہ بات ظاہر ہوچکی ہوگی کہ بُرے خاتمے سے سے بے خوف رہنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ آپ تمام اشیاء کی حقیقت سے واقف ہوکر انہیں اسی طرح دیکھیں اور کسی بھی گناہ کا ارتکاب کئے بغیر ساری زندگی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عباد ت میں گزاردیں ۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا ناممکن یا بہت مشکل ہے تو پھر لازم ہے کہ آپ پر خوف کی کیفیت غالب رہے جیساکہ عارفین پر غالب رہتی اور اس کے سبب ہمیشہ اشکباراورغم زدہ وافسردہ رہتے اور یہ کیفیت ایسی ہوتی جیسی انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام،اولیائے عِظام اور سلف صالحینرَحِمَہُم ُاللہُ الْمُبِیْنکی ہوتی تھی جس کا بیان ہم عنقریب کریں گے تاکہ ان کا مطالعہ کرکے تمہارے دل میں خوف کی آگ شعلہ زن ہوجائے۔
ہم نے یہاں تک جس قدر گفتگو کی ہے اس سے آپ نے جان لیا ہوگا کہ انسان کی آخری سانس جس میں روح نکلتی ہے اگر اس وقت انسان ایمان پر قائم نہ ہوتو اس کے عمر بھر کے اعمال برباد ہوجاتے ہیں اور قلبی خیالات کی موجوں کے اضطراب کی موجود گی میں اسے سلامتی کا حُصول انتہائی مشکل ہے۔اسی لئے حضرت سیِّدُنا مُطَرِّ ف بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے:مجھے ہلاک ہونےوالے پر تعجب نہیں ہوتا کہ وہ کیسے ہلاک ہوگیا بلکہ مجھے نجات پانے والے پر تعجب ہوتا ہے کہ اس نے کس طرح نجات پالی؟
حضرت سیِّدُنا حامد لَفافعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں: جب فرشتے کسی ایسےمومن بندے کی روح کو لے کر جاتے ہیں جس کی موت خیر وعافیت کے ساتھ اسلام پر ہوئی ہو تو دیگر فرشتے اس پر تعجب کرتے ہوئے کہتے ہیں:جس دنیا میں ہمارے بہترین افرادہلاک و آزمائش میں مبتلاہوگئے اس نے اس میں سے کیسے نجات حاصل کرلی؟
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک دن رورہے تھے۔جب رونے کا سبب دریافت کیا گیا تو ارشاد فرمایا:پہلے ہم ایک مدت تک گناہوں پر روتے رہے لیکن اب ہم اسلام پر خاتمے کے لئے روتے ہیں۔
بہرحال جس شخص کی کشتی دریا کے بیچ بھنور میں پھنس جائے ،طوفانی ہوائیں اس پر ہجوم کرلیں اور ہر