Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
523 - 882
 حالتوں کو دیکھے گا جس کے سبب اس پر اس قدر خو ف اور حیا طاری ہوگی جس کو بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔  
	ان بُزرگ نے جو کچھ بیا ن فرمایاوہ  بالکل صحیح ہے اور سچے خواب کا سبب بھی تقریباً یہی ہے کیونکہ سونے والا لوحِ محفوظ کو پڑھ کرمستقبل میں ہونے والے مُعامَلے کو جان لیتا ہے اور یہ نبوت کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا ہے۔بہر حال بُرے خاتمے کے اسباب کا تعلُّق دل کے احوال اور ذہنی خیالات سے ہے،دلوں کو پھیرنے والی ذات اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی ہےاور وہ اتفاقات جو بُرے خاتمے کا تقاضہ کرتے ہیں اگرچہ طویل اُنس والفت کو ان میں تاثیر حاصل ہے لیکن یہ  مکمل طور پر انسان کے اختیار میں نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ عارفین بُرے خاتمے سے بہت زیادہ خوف زدہ رہا کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ وہ خواب میں صرف نیک لوگوں کے احوال،نیکیو ں اور عبادات کے معاملات کو دیکھے تو ایسا ہونا  مشکل ہے  اگر چہ کثرت کے ساتھ نیک اعمال کی بجاآوری اور ان پر استقامت کو اس میں دخل حاصل ہے لیکن خیالات کی حرکت مکمل طور پر انسان کے قابو میں نہیں ہوتی اگرچہ اکثر وبیشتر یہی ہوتا ہے کہ بیداری  کی حالت میں انسان پر جو کیفیت غالب ہوتی ہے اسے خواب میں بھی اسی قسم کے مناظر نظر آتے ہیں۔
حکایت:پیر کاادب
	میں نے حضرت سیِّدُنا  شیخ ابو علی فارَمَذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے سنا جو مجھ سے بیان کررہے تھے کہ مرید  پر اچھے انداز میں شیخ طریقت کا ادب کرنا لازم ہے اوران آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شیخ کی کسی بات پر نہ تو دل میں انکار ہو اور نہ  زبان سے بحث کرے۔فرماتے ہیں:ایک مرتبہ  میں نے اپنے شیخ حضرت سیِّدُنا ابوالقاسم کُرْ کانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے اپنا خواب بیان  کرتے ہوئے عرض کی:میں نے خواب دیکھا کہ آپ نے مجھ سے ایک بات ارشادفرمائی تو میں نے پوچھا:ایسا کیوں؟حضرت سیِّدُناشیخ ابوعلی فارَمَذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: یہ سن کرحضرت سیِّدُنا  ابوالقاسم کُرْ کانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے ارشاد فرمایا:اگر تمہارے د ل میں کیوں کہنے کی جرأت اور میری بات کا انکار نہ ہوتا تو پھر خواب کے عالَم میں بھی یہ بات تمہاری زبان پر جاری نہ ہوتی۔اس کے بعد آپ نے ایک مہینے کے لئے مجھے چھوڑدیا اور مجھ سے کلام نہ فرمایا۔
	واقعی ایسا ہی ہےکیونکہ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ انسان بیداری کے عالم میں دل پر غالب رہنے والے