Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
522 - 882
 ذہن ایک چیز سے دوسری اور پھر اس سے تیسری چیز کی طرف منتقل ہوجاتاہے اور پھر دوسری چیز کو بھول جاتا ہےاور اب تیسری اور پہلی چیز کے درمیان کوئی مناسبت نہیں ہوتی لیکن تیسری اور دوسری جبکہ دوسری اورپہلی چیز کے  درمیان مناسبت ہوتی ہے۔خواب کی حالت میں اور سَکَراتِ موت کے وقت  دل کے ایک چیزسے دوسری چیز کی طرف منتقل ہونے کے اسباب بھی اسی قسم کے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو شخص سارا دن سلائی کا کام کرتا ہو تم اسے دیکھو گے کہ وہ نیند میں بھی اپنے سر کی طرف اشارہ کرتا ہےگویا سلائی کے لئےسوئی پکڑ رہا ہے ، اپنی عاد ت کے مطابق مرتبان سے انگلی تر کرتا ہے ،کپڑےکو اوپر سے پکڑ کر بالشت سے ناپتا ہے اور پھر قینچی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے۔ 
گناہوں بھرے خیالات سے بچنے کا طریقہ:
	جو شخص اپنے ذہن کو گناہوں اور شہوتوں کی طرف منتقل ہونے سے بچانے کا خواہش مند ہو تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ عُمْر بھر گناہوں سے بچنے اور د ل سے نفسانی خواہشات کی محبت کوختم کرنےکی کوشش کرتا  رہےکیونکہ بندے کے اختیار میں یہی بات ہے۔استقامت کے ساتھ نیک اعمال کی بجاآوری اوربُرے خیالات سے دل کی حفاظت موت کے وقت کے لئے بہترین ذخیرہ اور تیاری ہے کیونکہ انسان کو اسی حالت پر موت آتی ہے جس پر  وہ اپنی زندگی گزارتا ہے اور جس حالت پر انسان کو موت آتی ہے وہ اسی حالت پر اٹھایا جائے گا۔
ایک سبزی فروش کی موت:
	ایک سبزی فروش کے بارے میں منقول ہے کہ موت کے وقت اسے کلمۂ شہادت کی تلقین کی گئی تو وہ کہنے لگا:پانچ،چھ،چار۔موت کے وقت بھی وہ اس حساب کتاب میں مشغول تھا جس میں اس کی ساری زندگی گزری تھی۔
	اَسلاف میں سے ایک عارف بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:عرش  نورسےجگمگاتاایک جوہرہے، بندہ جس حال میں بھی ہو اس کی وہ حالت اسی صورت میں عرش پر نقش ہوجاتی ہے۔جب انسان پرموت کی سختیاں طاری ہوتی ہیں تو عرش پر اس کی وہ صورت ظاہر ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ اپنے آپ کو گناہ کی صورت میں دیکھتا ہے۔یونہی قیامت کے دن بھی اس کے سامنے اس کی مختلف صورتیں ظاہر ہوں گی اور یہ اپنی مختلف