میں علم اور علما سےمتعلقہ مُعاملات، تجارت کے معاملات سے زیادہ نظر آ تے ہیں۔تاجر خواب میں تجارت کے مُعاملات طبیب اور فقیہ کے معاملات سے زیادہ دیکھتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیند کے عالَم میں انسان وہی کچھ دیکھتا ہے جسے طویل عرصے تک کرتے رہنے یا کسی اور وجہ سے د ل سے اُنسیت حاصل ہو۔
(اس معاملے میں )موت نیند کے مشابہ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہےجبکہ موت کی سختیاں او ر اس سےپہلے طاری ہونے والی بے ہوشی نیند سے قریب ہےجو اس بات کاتقاضا کرتی ہیں کہ انسان جس چیز سے مانوس ہے اسے یاد کیا جائے۔طویل عرصے تک گناہوں یا نیکیوں سے مانوس رہنا ایک ایسا سبب ہے جس کےباعث مرتےوقت انسان نیک یا بداعمال کو یاد کرتا ہے۔اسی لئے نیک لوگوں اور گناہ گاروں کے خواب مختلف ہوتےہیں۔گناہوں سےاُنسیت کے غلبے کے سبب موت کے وقت دل میں بُرے خیالات آتے ہیں اور دل ان کی طر ف مانوس ہوتا ہے اور بعض اوقات اسی حالت میں بندے کی روح قبض ہوجاتی ہے اور یوں وہ برے خاتمے کا شکار ہوجاتا ہےاگرچہ اس صورت میں اصْلِ ایمان باقی رہتا ہے جس کے سبب نجات کی امید ہوتی ہے۔
جس طرح بیداری کے عالَم میں دل میں آنے والے خیالات کا خاص سبب ہوتا ہے جسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتاہے یونہی بعض خواب بھی ایسے ہوتے ہیں جن کے خاص اسباب ہوتے ہیں ،ان میں سے بعض اسباب کوہم جانتے ہیں اور بعض کو نہیں جانتےمثلاً:ہم یہ بات جانتے ہیں کہ انسانی خیال کا ایک چیز سے کسی دوسری چیزکی طرف منتقل ہونا کسی مُشابَہَت کی وجہ سے ہوتا ہےیا ضد ہونے کی وجہ سے یا پھر قُرب کی وجہ سے کہ وہ دونوں ایک ساتھ انسانی حِس پر وارد ہوئے ہوں۔انسانی خیال کے مشابہت کی وجہ سےایک چیز سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہونے کی مثال جیسے کسی خوبصورت چیز کو دیکھ کر کسی اور خوبصورت چیز کو یاد کرنا۔ضد ہونے کی وجہ سے یاد کرنے کی مثال مثلاً:خوبصورت چیز کو دیکھ کر بدصورت چیز کو یاد کرنا اور دونوں کے درمیان فرق کے بارے میں غور کرنا۔قُرب کی وجہ سے یاد کرنا مثلاً: کسی گھوڑے کودیکھ کر اس انسان کو یاد کرنا جسے اس سے پہلے گھوڑ ےکے ساتھ دیکھا تھا۔
بعض اوقات ذہن ایک چیز سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہوتا ہے لیکن دونوں کے درمیان کوئی مناسبت سمجھ نہیں آتی ،اس کی وجہ یہ ہوتی ہےکہ دونوں کے درمیان ایک یا دو واسطے موجود ہوتے ہیں مثلاً: