Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
520 - 882
 مشتاق ہو اور اس سے ملنے کے لئے مَشَقَّت سے بھرپور اعمال اور سفر کی تکلیفوں کو برداشت کرے۔اس قسم کے شخص کے لئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جو کچھ انعام واکرام تیار کررکھے ہیں ان سے قَطْعِ نَظَر صرف بارگاہِ خداوندی میں حاضری اور دیدارِ خداوندی سے حاصل ہونے والی خوشی ومُسَرَّت پر غور کرلیا جائے تو  کافی ہے۔
	بُرے خاتمے کا دوسراسبب پہلےسبب سے ہلکا ہے اوردوزخ میں ہمیشہ رہنے کا باعث نہیں اور اس کے بھی دو اسباب ہیں:(۱)… گناہوں کی کثرت اگرچہ ایمان مضبوط ہواور(۲)…ایمان کی کمزوری اگرچہ گناہ قلیل ہوں۔
پہلے سبب کی وضاحت:
	انسان سے گناہوں کا صدور اس لئے ہوتا ہے کہ نفسانی خواہشات کی عادت اور ان سے اُنسیت اس کے دل میں جڑ پکڑلیتی اور غالب آجاتی ہے اور انسان اپنی زندگی میں جن چیزوں سے مانوس ہوتا ہے موت کے وقت انہیں ضرور یاد کرتا ہے ۔جس شخص کی زندگی کا اکثر حصہ اطاعت وعبادت میں گزرا ہو موت کے وقت اس کے د ل میں انہیں چیزوں کی یاد غالب ہوتی ہے اور اگر زندگی کا بیشتر حصہ گناہ ونافرمانی کی نذرہواہو تو مرنے سے پہلے اس کے دل پر گناہوں کی یاد غالب ہوگی۔اگر کسی کی روح ایسی حالت میں قبض ہو کہ اس کے دل پر کسی دنیوی شہوت یا گناہ کی یاد کا غلبہ ہو تو اس کا دل اسی گناہ یا شہوت کے ساتھ قید رہے گا اوروہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حجاب میں رہے گا۔جس شخص سےکبھی کبھار گناہوں کا صدور ہوتا ہےوہ اس خطرے سے دور ہے اور جو گناہوں سے مکمل طور پر باز رہتا ہو وہ اس سے کامل طور پر محفوظ ومامون ہے۔جس  شخص کے گناہ اس کی نیکیوں سے زائد ہوں،گناہ و مَعاصی اس کے دل ودماغ پر غالب ہوں او ر اسے نیکیوں سے زیادہ گناہوں سے خوشی ہوتی ہو تو ایسا شخص بُرے خاتمے کے عظیم خطرے سے دوچار ہے۔اس شخص کے مُعاملے کو ایک مثال کے ذریعے اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہےمثلاً:انسان اپنی زندگی میں بیداری کے عالَم میں اکثر وبیشتر جن معاملات میں مشغول رہتا ہےاسے  خواب میں بھی اسی قسم کے مُعاملات نظر آتے ہیں چنانچہ اگر کسی قَرِیْبُ الْبُلُوغ لڑکے کو احتلام ہوتو  اسے خواب میں ہم بستری کی کیفیت نظر نہیں آتی کیونکہ اس نے  بیداری میں ہم بستری نہیں کی اور اگر وہ ایک عرصے تک ایسے ہی رہے تو بھی اسے احتلام کے وقت ہم بستری کی کیفیت نظر نہیں آئے گی۔ یونہی جس شخص نے اپنی زندگی علمِ فقہ کی خدمت میں گزاری ہو اسے خواب