کے جذبات پیدا ہوئے تھےتو بلاشبہ اس کا خاتِمہ بُرا ہو ااور یہ ہمیشہ کے لئے ہلاکت کا شکا ر ہوگیا ۔
اس قسم کے بُرے خاتمے تک لے جانے کا سبب دنیا کی محبت کا غلبہ ،اس کی طرف مائل ہونا اور اس کے اسباب پر خوش ہونا نیز ایمان کے کمزور ہونے کی وجہ سے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت کا کم ہونا ہے۔ایسا شخص جو کہ اگرچہ دنیا سے بھی محبت کرتا ہو لیکن اس کے دل میں موجود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت محبتِ دنیا پر غالب ہو تو وہ اس خطرے سے محفوظ ہوتا ہے ۔
دنیا کی محبت تمام برائیوں کی بنیاد اور انتہائی مُہْلِک بیماری ہے اور تمام مخلوق اس میں مبتلا ہے ۔اس کا بنیادی سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں کامل مَعْرِفَت کا نہ ہونا ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے وہی محبت کرتا ہےجو اسے پہچانتا ہے،اسی لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: قُلْ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَ اِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیۡرَتُکُمْ وَ اَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوۡہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللہِ وَرَسُوۡلِہٖ وَجِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ ؕ (پ۱۰،التوبة:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری عورتیں اور تمہارا کنبہ اور تمہاری کمائی کے مال اور وہ سودا جس کے نقصان کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسند کے مکان یہ چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں لڑنے سے زیادہ پیاری ہوں تو راستہ دیکھو(انتظارکرو)یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے۔
بہرحال جس شخص کی روح ایسی حالت میں قبض ہو کہ موت کے ذریعے اسے اس کے اہل وعیال،مال ودولت اور دیگر محبوب اشیاء سے جدا کرنےوالےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فعل پر اس کے دل میں انکار اور ناپسندیدگی موجود ہو تو ایسے شخص کی موت محبوب اشیاء سے جدائی اور ناپسندیدہ چیزو ں سے ملاقات کا باعث بنتی ہے۔ایسے شخص کیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضری اس بھاگے ہوئے غلام کی طرح ہوگی جو اپنے آقا کو ناپسند کرتا ہو اور اسے زبردستی آقا کی خدمت میں پیش کیا جائے،ایسا غلام کس قدررُسوائی اور سزا کا مستحق ہوگا اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس جس خوش نصیب کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کے عالَم میں موت آتی ہے اس کی بارگاہِ خداوندی میں حاضری اس غلام کی مثل ہوتی ہے جو اپنے آقا کا مطیع وفرمانبرداراوراس سے ملاقات کا