طرف کان دھرتے ہیں۔اسی لئے رحمتِ عالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَكْثَرُ اَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْهیعنی جنت میں جانے والے اکثر لوگ بھولے بھالے ہوں گے۔(1)
دوسرا سبب:
بُرے خاتِمے کی پہلی قسم کادوسرا سبب اصْلِ ایمان کا کمزور ہونا اور دنیا کی محبت کا دل پر غالب آجانا ہے۔جب بھی کسی بندے کا ایمان کمزور ہوتا ہے تو اس کے دل میں موجوداللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت بھی کمزور پڑجاتی اور دنیا کی محبت مضبوط ہوجاتی ہے۔اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ بندے کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت صرف برائے نام رہ جاتی ہے اور اس میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ نفس کی مُخالَفَت کرسکے یا پھر بندے کو شیطان کے راستے پر چلنے سے روک سکے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بندہ نفسانی خواہشات کی پیروی میں منہمک رہتا ہے یہاں تک کہ اس کا دل تاریک،سخت اور سیاہ ہوجاتا ہے اور اس کے دل پر گناہوں کے اندھیروں کی تہہ چڑھتی اور دل میں موجود نورِ ایمان کو مسلسل کمزور کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کا دل زنگ آلود ہوجاتا اور اس پر مہر لگ جاتی ہے۔پھر جب موت کی سختیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہےاور بندے کو اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ عنقریب اپنی سب سے محبوب چیز یعنی دنیا سے جدا ہونے والا ہے تو دنیا سے فراق کا یہ احساس اس کے دل کو شدید تکلیف پہنچاتا ہے اور جب اس کی توجہ اس طرف جاتی ہے کہ اس کی دنیا سے یہ جدائی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہےتو دل میں موجود اللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت نہ صرف مزید کمزور ہوجاتی ہے بلکہ موت کو ناپسندکرنے اور اسےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے جاننے کے باعث اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے محبت کے بجائے نفرت پیدا ہوجائے۔
اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص جو اپنے بیٹے سے بہت کم محبت کرتا ہو اور اسے بیٹے سےزیادہ اپنے ما ل ودولت سے پیار ہو،بیٹا اگر اس کے محبوب مال کو ضائع کردےتو اس کے دل میں موجود بیٹے کی کمزور محبت نفرت میں تبدیل ہوجائے گی۔
اگر اس شخص کی روح ایسے وقت میں جدا ہوئی جس لمحے اس کے دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے نفرت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان، باب التوکل باللہ عزوجل والتسلیم،۲/ ۵۹،تحت الحدیث:۱۱۶۳