(1)... وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾ (پ۲۴،الزمر:۴۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اورانہیںاللہکی طرف سےوہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔
(2)... قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیۡنَ اَعْمَالًا ﴿۱۰۳﴾ؕ اَلَّذِیۡنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ہُمْ یَحْسَبُوۡنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوۡنَ صُنْعًا ﴿۱۰۴﴾ (پ۱۶،الکھف:۱۰۴،۱۰۳)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ کیا ہم تمہیں بتادیں کہ سب سے بڑھ کر ناقص عمل کن کے ہیں ان کے جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں گُم گئی اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ہم اچھا کام کررہے ہیں ۔
جس طرح نیند کے عالَم میں بعض اوقات ایسے مُعامَلات مُنکَشِف ہوتے ہیں جو مستقبل میں ہونے والے ہوں اور اس کا سبب یہ ہےکہ اس حالت میں دل پر دنیوی مصروفیات کا بوجھ نہیں ہوتا یونہی موت کی سختیوں کے دوران بھی بعض پوشیدہ باتیں ظاہر ہوتی ہیں،دنیوی مشغولیات اور بَدَنی شَہوات دل کے لئے رُکاوٹ بنتی ہیں اور وہ نہ تو اُمورِ غَیْبِیَّہ کا مُشاہَدہ کرسکتا ہے اور نہ ہی لوحِ محفوظ کا مطالعہ کرپاتا ہے کہ اس پر حقیقتِ حال کا انکشاف ہو ،چونکہ سَکَراتِ موت کے وقت یہ رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اس لئے انسان پر کشف کا دروازہ کھل جاتا ہے اور یہ کشف اس کے بقیہ دُرُست عقائد کے بارے میں شک وشبہے کا باعث بنتا ہے۔
ہر وہ شخص جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصفات یا افعال کے بارے میں کسی کی تقلید کرتے ہوئے یا پھر اپنی عقل اور رائے پر اعتماد کے سبب غلط عقیدہ رکھتا ہے وہ اس خطرے سے دوچار ہے اور اس خطرے سے حفاظت کے لئے دنیا سے بے رغبتی اور اعمالِ صالحہ کافی نہیں ہیں بلکہ صرف درست عقائد ہی اس سے نجات دلاسکتے ہیں۔ بھولے بھالے افراد اس خطرے سے محفوظ ہیں،بھولے بھالے افراد سے ہماری مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے رسولوں اور آخرت کے دن پر اجمالی اور مضبوط ایمان رکھتے ہیں جیسے دیہات اور جنگلات میں رہنے والے نیز دیگر عام افرادجو عقائد کے مُعاملات میں بحث مُباحَثہ کرتے ہیں نہ علمِ کلام کے بارے میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور نہ ہی عُلَمائے مُتَکَلِّـمِیْن کے مختلف اقوال کی تقلید کرتے ہوئے ان کی