اس قدر زیادہ ہیں جن کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں۔ البتہ !ہم ان میں سے چند جامع اسباب کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔شک اور انکار کی حالت میں خاتمے کے اسباب دو قسموں میں منحصرہیں ۔
پہلا سبب:
یہ سبب زُہد وتقویٰ اور انتہائی نیک اعمال کے ساتھ بھی جمع ہوسکتا ہے جیسے بدعتی عبادت گزارکیونکہ ایسےشخص کے نیک اعمال کے باوُجود اس کی آخرت خطرے میں ہوتی ہے ۔میری مراد کوئی خاص بات (یامسلک)نہیں ہے جسے میں بدعت قرار دوں نیز اس بات کا بیان کلام کی طوالت کا باعث ہے بلکہ بدعت سے میری مراد یہ ہے کہ انساناللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات وصِفات اور افعال کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھے جو حق کے خلاف ہو چاہےیہ خلافِ حقیقت عقیدہ ر کھنا اپنی رائے،عقل اورقیاس کےسبب ہو جس کے ذریعے یہ شخص مخالف سے جھگڑتا اوراس پر اعتما د کرتاہے یا پھر کسی کی پیروی کرتے ہوئے اس عقیدے کو اختیار کیا ہو۔جس شخص کی یہ حالت ہو جب اس کی موت کا وقت قریب آتا ہے ،مَلَکُ الْمَوْتعَلَیْہِ السَّلَام روح قبض کرنے کے لئے تشریف لاتے ہیں اور دل پرگھبراہٹ طاری ہوتی ہے تو بعض اوقات اس شخص پر یہ اِنکشاف ہوتا ہے کہ وہ اپنی جہالت کے باعث جس عقیدے پر قائم تھا وہ عقیدہ باطل تھاکیونکہ موت کی حالت میں پردے اٹھ جاتے ہیں اور سَکَراتِ موت کی ابتدائی کیفیت بھی موت کا ہی حصہ ہے، لہٰذا اس میں بھی کئی باتیں مُنکَشِف ہوجاتی ہیں۔ایسی حالت میں جب اس شخص پر اپنے کسی ایسے عقیدے کا غلط ہونا ظاہر ہوتا ہے جسے اس نے زندگی بھر اپنائے رکھا اور اسے حق سمجھتا رہا تو چونکہ اس شخص کے نزدیک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوررسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان نیز دیگر درست عقائد اور اپنے غلط عقیدے کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا لہٰذا وہ سمجھتا ہے کہ میرے تمام عقائد کی کوئی اصل نہیں ہے۔بعض عقائدسے جہالت پر مبنی ہونے کا انکشاف اس شخص کے لئے بقیہ عقائد کو باطل سمجھنے یا ان میں شک کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔اگر اصْلِ ایمان کی طرف لوٹنے اور اس پر قائم ہونے سے پہلے اسی حالت میں کسی شخص کی روح نکل جائے تو بے شک اس کا خاتمہ بُرا ہوا اور اس کی روح شرک کی حالت میں بدن سے جدا ہوئی۔ایسی موت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ان فرامین سے یہی لوگ مراد ہیں: