میں مصروف ہے دوزخ کی آگ اس سے کہے گی:”جُزْ يَا مُؤْمِنُ فَاِنَّ نُوْرَكَ قَدْاَطْفَاَ لَهَبِیْ یعنی اے بندۂ مومن!جلد گزر جا کہ تیرے نور نے میرے شعلوں کو بجھادیا ہے۔“
جس شخص کی موت اس حالت میں واقع ہو کہ اس کے دل پر دنیا کی محبت غالب ہو تو اس کا مُعامَلہ انتہائی خطر ناک ہے کیونکہ انسان اسی حال پر مرتا ہے جس حال میں اس نے زندگی گزاری ہوتی ہے ۔دل پر اثر انداز ہونا صرف اعضائے بدن کے اعمال کے ذریعے ممکن ہوتاہے اور موت کے سبب اس شخص کے اعضاء اب کوئی عمل نہیں کرسکتے لہٰذا موت کے وقت اس کے دل پر جو کیفیت غالب تھی اس کے علاوہ کسی اور کیفیت کا حصول اب اس کے لئے ممکن نہیں رہا۔اب یہ شخص ہر قسم کے عمل سے نیز دنیا میں واپس لوٹ کر اپنی غَلَطِیوں کاازالہ کرنے سے مایوس ہوجاتا ہے اور اس پر حسرت ونَدامت طاری ہوتی ہے۔اگر اس شخص کے دل میں طویل مدت تک اصْلِ ایمان اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی محبت راسخ رہے ہوں اوراس نے نیک اعمال کے ذریعے انہیں مضبوط بھی کیا ہو تو پھر ممکن ہےکہ یہ چیزیں موت کے وقت اس کے دل پر طاری ہونے والی اس کیفیت کو ختم کردیں۔پھر اگر اس کے ایمان کی قوت ایک مثقال جتنی ہوئی تواللہ عَزَّ وَجَلَّجلد اسے دوزخ سے رہائی عطا فرمائے گا اور اگر اس سے کم ہوئی تو اس کا دوزخ میں قیام طویل ہوگا اور اگر کسی کا ایمان رائی کے دانے کےبرابر ہوا تو بھی وہ دوزخ سے ضرور نکلے گا اگرچہ ہزاروں سال کے بعد نکلے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
آپ کی بیان کردہ باتو ں کا تقاضا تو یہ ہے کہ مذکورہ شخص پرمرتے ہی عذابِ قبر کا سلسلہ شروع ہوجائے تو پھر کیا سبب ہے کہ اس کے عذاب کو قیامت تک مؤ خر کرکے اس طویل مدت کے دوران اسے مہلت دے دی جاتی ہے؟
جواب:عذابِ قبر کا انکار کرنے والا شخص بدعتی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے نور اور نورِ قرآن ونورِ ایمان سےحجاب میں ہے۔اصحابِ بصیرت کے نزدیک دُرُست بات وہی ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قبر یا تو دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یا جنت کے باغات میں سے ایک باغ۔ (1)نیز یہ کہ عذابِ قَبْر میں مبتلا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی،کتاب صفةالقیامة،باب۲۸، ۴/ ۲۰۸،حدیث :۲۴۶۸،بتقدم وتاخر