Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
513 - 882
 ارشادفرمایا:بندۂ مومن دو خوفوں کے درمیان ہوتا ہے،گُزشتہ زندگی کے اعمال کا خوف کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ا ن کے بارے میں کیا فیصلہ فرمائے گا؟اورآئندہ زندگی کے بارے میں خوف کیونکہ اسے نہیں پتا کہ اس کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر کیا ہے؟اس ذاتِ پاک کی قسم جس کے قبضَۂ قدرت میں میری جان ہے!موت کے بعدکوئی مَشَقَّت نہیں اور دنیا کے بعد جنت یا دوزخ کے علاوہ کوئی ٹھکانانہیں ہے۔(1)
ساتویں فصل:			  بُرے خاتمے کامفہوم 
	سوال:آپ نے جن صالحین کے خوف کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے اکثر کا خوف برے خاتمے سے متعلق ہے اس لئے برے خاتمے کا معنیٰ بھی بیان فرمادیجئے؟
	جواب:برے خاتمے کے دو دَرَجےہیں جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ سخت ہے۔
٭…پہلا دَرَجہ :یہ برے خاتمے کا انتہائی شدید اور ہولناک درجہ ہے کہ موت کی سختیوں اور اس کی تکلیفوں    کے ظہور کے وقت انسان کے دل پراللہ عَزَّ  وَجَلَّاورایمانیات کے بارے میں شک یا انکار غالب آجائےپھر اسی شک یا انکار کے غَلَبے کی حالت میں اس  کی روح قبض کرلی جائے اور اس کے دل پر غالب آنے والی یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بندے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے درمیان پردہ بن جائے ۔بُرے خاتمے کے اس درجے کا شکار ہونے والا شخص ہمیشہ کے لئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی رحمت سے دوری اور دائمی عذاب کا مستحق ہے۔
٭…دوسرا دَرَجہ :یہ  درجہ پہلے درجے سے ہلکا ہے۔ا س کی صورت یہ ہے کہ موت کے وقت بندے کے دل پرکسی دنیوی معاملے یا شَہوت کی محبت غالب آجائے اور یہ محبت اس کے دل کو ا س طرح سے گھیر لے کہ دل میں اس حالت میں کسی اور کی گنجائش نہ رہے،پھر اس کی روح اسی حالت میں قبض ہوجائے کہ اس کا دل دنیا کی محبت میں ڈوبا ہوا ہواور وہ  ہمہ تن اپنے ظاہر وباطن کے ساتھ دنیا کی طرف متوجہ ہو۔جب بھی کسی کی توجہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ہٹتی ہے تواس کے اوراللہ عَزَّ  وَجَلَّکے درمیان حجاب ہوجاتا ہے اور جوبندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے حجاب میں ہوتا ہے اس پر عذاب نازل ہوتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی بھڑکتی ہوئی آگ صرف ان لوگوں کو پکڑے گی جواس سے حجاب میں ہیں جبکہ وہ بندۂ مومن جس کا دل دنیا کی محبت سے محفوظ اور یادِ خداوندی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…شعب الایمان ، باب فی الزھد وقصرالامل،۷/ ۳۶۰، حدیث :۱۰۵۸۱