Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
512 - 882
(9)...اس سے بھی زیادہ سخت روایت یہ ہےکہ کچھ لوگ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن یَمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کےدروازے پر بیٹھےہوئےآپ کا انتظار کررہے تھے ،اس دوران وہ آپ کے بارے میں کچھ گفتگو کرنے لگے۔جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہباہر تشریف لائے تو وہ آپ سے شرم کرتے ہوئے خاموش ہوگئے۔ فرمایا:تم لوگ جو بات کررہے تھے اسے جاری رکھو،لیکن وہ خاموش رہے۔اس پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ مُبارَکہ میں ہم اس بات کو نِفاق شمار کرتے تھے۔
پَل میں تولہ پَل میں ماشہ:
	یہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن یَمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں جنہیں منافقین اور اسبابِ نفاق کے علم سے خاص کیا گیا ہے۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے:بعض اوقا ت دل پر ایسا وقت آتا ہے کہ وہ ایمان سے لبریز ہوجاتا ہے اور اس میں نفاق کے لئے سوئی کے ناکے جتنی جگہ بھی نہیں بچتی اور کبھی دل پر ایسی گھڑی بھی آتی ہےجس میں وہ نفاق سے بھر جاتا ہے یہاں تک کہ اس میں ایمان کے لئے سوئی کے سوراخ برابر جگہ بھی نہیں رہتی۔  
نِفاق سے بے خوف شخص منافق ہے:
	اس تمام گفتگو سے آپ نے جان لیا ہوگا کہ عارفین کا خوف بُرے خاتمے سے ہوتا ہے او ر بُرے خاتمے کا سبب کچھ ایسے امور ہیں جو موت سے پہلے پیش آتے ہیں جن میں بدعت،گناہ ومَعْصِیَت اور نفاق بھی شامل ہیں۔یہ چیزیں ایسی ہیں جن سے بندے کا بچنا انتہائی دشوار ہے اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میں ان چیزوں سے محفوظ ہوں تو اس کا یہ گمان بھی نفاق ہے کیونکہ منقو ل ہے:جو نفاق سے بے خوف ہوجائے وہ منافق ہے۔
	ایک بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کسی عارف بِاللہسے کہا:میں اپنے بار ےمیں نفاق سے خوف زدہ ہوں۔عارف نے جواب دیا:اگرتم منافق ہوتے تو نفاق سے خوف نہ کھاتے۔
دوخوف:
	بہرحال مَعْرِفَت رکھنے والے شخص کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ تقدیر اور بُرے خاتمے کی طرف متوجہ ہوکر ان سے خوف زدہ رہتا ہے،اسی لئےسرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے