وَسَلَّمکی حیاتِ ظاہری میں ایک شخص کوئی بات کرتا تھا،اس کے سبب اسے منافق سمجھا جاتا تھا جبکہ آج میں تم میں سے بعض لوگوں سے وہی بات ایک دن میں10مرتبہ سنتا ہوں۔(1)
(3)…بعض صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانفرمایا کرتے تھے:تم لوگ کچھ ایسے کام کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے بھی باریک ہیں جبکہ ہم سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک دور میں انہیں کبیرہ گناہوں میں شمار کرتے تھے۔(2)
(4)…ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:نِفاق کی علامت یہ ہے کہ بندہ جو کام خود کرتا ہے وہی کام لوگوں کی طرف سے ہو تو اسے ناپسند کرے۔
(5)…ایک قول کے مطابق ظُلْم میں سے کسی چیز کو پسند کرنا اور حق میں سے کسی بات کو ناپسند کرنا نفاق ہے۔
(6)…ایک قول ہے کہ جب کسی شخص کی ایسی بات پر تعریف کی جائے جو ا س میں نہیں پھر بھی وہ تعریف کو پسند کرے تو یہ نفا ق ہے۔
(7)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُناابن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں عرض کی:ہم بادشاہوں کے پاس جاتے ہیں اور ان کی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں پھر جب ان کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک زمانے میں ہم اس بات کو نفاق شمار کرتے تھے۔(3)
(8)…ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عُمَررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے ایک شخص کوحَجّاج بن یُوسُف کی مَذمَّت کرتے سنا تو اس سے دریافت فرمایا:اگر حَجَّاج اس وقت یہا ں موجود ہوتا تو کیا پھر بھی تم اس کے خلاف باتیں کرتے؟اس نے عرض کی:نہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک دور میں ہم اس بات کو نفا ق سمجھتے تھے۔ (4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،حدیث حذیفة بن یمان عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم،۹/ ۸۰،حدیث:۲۳۳۳۸
2…صحیح بخاری، کتاب الرقاق، باب مایتقی من محقرات الذنوب،۴/ ۲۴۴،حدیث: ۶۴۹۲،’’الکبائر‘‘بدلہ ’’الموبقات‘‘
3…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۹۰
4…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین ،۱/ ۳۹۰