Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
510 - 882
 مراد ہے جو اصْلِ ایمان کے ساتھ جمع ہوسکتا ہے(جسے نفاقِ عملی کہتے ہیں)اور جس شخص میں یہ پایا جائے وہ مسلمان منافق ہوتا ہے۔اس نفاق کی بہت سی علامات ہیں۔چنانچہ
منافق کی علامات:
	سرکارِ مدینہ،قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:چار باتیں ایسی ہیں کہ یہ جس میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اگرچہ نماز پڑھے،روزہ رکھے اور خود کو مسلمان سمجھےاور جس میں ان میں سے ایک خصلت پائی جائے تو اس میں نفاق کا ایک شعبہ موجود ہے یہاں تک کہ اسے چھوڑدے:(۱)…مَنْ اِذَا حَدَّثَ كَذِبَ،جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۲)…وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ،وعدہ کرے تو پورا نہ کرے(۳)…وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ ،  امانت دی جائے تو خیانت کرےاور(۴)…وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ،جھگڑا کرے تو گالی دے۔(1)
	ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:وَاِذَا عَاهَدَ غَدَرَیعنی جب مُعاہَدہ کرے تو اسے توڑ دے۔(2)
نفاق  کے بارے میں نو اقوالِ صحابَہ و تابعین:
	صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اورتابعین عظامرَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے نفاق کی متعددتعریفیں بیان فرمائیں ہیں اور یہ ایسی تعریفیں ہیں جن سے مَحْض مرتبَۂ صِدِّیقیت پر فائز شخص ہی محفوظ ہوگا:
(1)…حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:ظاہر وباطن،دل وزبان اوراندر وباہر کا مختلف ہونا بھی نفاق ہے۔
	اس دور میں کون سا شخص ایسا ہے جو ان باتوں سے محفوظ ہوگا بلکہ اب تو لوگ ان باتوں کے اس قدر عادی اور ان سے مانوس ہوچکے ہیں کہ انہیں بُرا تک نہیں سمجھتے۔یہ باتیں تو ایسی ہیں جو زمانَۂ نبوت کےقریبی دور میں ہی شروع ہوچکی تھیں تو اس دور کے بارے میں کیا گمان کیا جاسکتا ہے؟
(2)…حضرت سیِّدُناحُذَیْفَہ بن یَمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:بے شک حضورسیِّدِعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب الایمان، باب علامة المنافق،۱/ ۲۴،حدیث :۳۴
	مسلم،کتاب الایمان، باب بیان خصّال المنافق،ص۵۱،حدیث :۱۱۰
2…شعب الایمان، باب فی الایفاء بالعقود،۴/ ۷۷، حدیث :۴۳۵۲