کے حق کو شامل ہو خواہ ذات سے متعلق ہو یا کسی عضو سے،مال سے متعلق ہو یا عزت سے،دین سے متعلق ہو یا منصب ومرتبہ سے۔ دین کے معاملہ میں بندوں کی حق تلفی یہ ہے کہ انہیں گمراہ کرنا،بدعت کی طرف بلانا، گناہوں کی ترغیب دینا اور باری تعالیٰ پر جرأت کے اسباب کو بھڑکانا جیساکہ بعض واعظین خوف ورجا میں سے امید کو غلبہ دے کر اس کے مرتکب ہوتے ہیں(یعنی لوگوں کو ڈرانے کے بجائے صرف امیدیں دلاتے رہتے ہیں)۔
زیادہ سخت معاملہ:
حقوقُ العباد کا معاملہ زیادہ سخت ہے جبکہ بندے اور رب تعالیٰ کے درمِیان کامُعامَلہ اگر شِرک نہیں تو اس میں معافی کی امید زیادہ ہے۔چنانچہ، حدیْثِ پاک میں ہے:”اعمال نامے تین قسم کے ہیں:(۱) جس کی بخشش ہوجائے گی (۲)جس کی بخشش نہیں ہوگی اور (۳)جسے چھوڑا نہیں جائے گا۔ پس جن کی بخشش ہے وہ بندوں کے گناہ ہیں جو ان کے اور رب تعالیٰ کے درمیان ہیں اورجن کی بخشش نہیں وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور جسے چھوڑا نہیں جائے گا وہ بندوں کے ایک دوسرے پر مظالِم ہیں یعنی حقوقُ العباد۔“(1)
مطلب یہ کہ ان کا مُطالَبہ ضرور ہوگا یہاں تک کہ صاحِبِ حق خود معاف کردے۔
تیسری تقسیم:
گناہوں کی دو قسمیں ہیں:(۱)صغیرہ گناہ (۲)کبیرہ گناہ۔ اس مُعامَلے میں بھی عُلَما کا کثیر اختلاف ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں:”صغیرہ، کبیرہ کوئی شے نہیں بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہر مخالفت ونافرمانی کبیرہ(یعنی بڑی) ہے۔“ لیکن یہ قول ضعیف ہے۔کیونکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمۡ مُّدْخَلًا کَرِیۡمًا ﴿۳۱﴾ (پ۵،النسآء:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔
نیز ارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدة عائشة ،۱۰/ ۸۲، حدیث : ۲۶۰۹۰،بتغیر