Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
509 - 882
(8)…حضرت سیِّدُنابایزیدبسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفرمایا کرتے تھے:جب میں مسجد کی طرف جاتا ہوں تو میری کیفیت ایسی ہوتی ہے کہ گویا میرے سینے پر زُنّار(1) بندھا ہوا ہے اور مجھے یہ خوف لاحق ہوتا ہے کہ یہ مجھے گرجا گھر یا آتَش کَدے میں لے جائے گا یہاں تک کہ جب میں مسجد میں پہنچ جاتا ہوں تو یہ زُنار ٹوٹ جاتا ہے ،روزانہ پانچوں نمازوں کے وقت میری یہی کیفیت ہوتی ہے۔
سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامکی نصیحت:
	منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حوارِیوں سےارشادفرمایا: اے حواریوں کے گروہ!تم لوگ گناہوں سے ڈرتے ہو جبکہ ہم گروہِ انبیا کفر سے خوف زدہ ہوتے ہیں۔
	مروی ہے کہ ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَامنے بارگاہِ الٰہی میں کئی سال تک بھوک، جوؤں اور لباس کی کمی کی  شکایت کی،ان کالبا س اون کا تھا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی:اے میرے بندے!کیاتم اس بات پر راضی نہیں  ہوکہ میں نے تمہارےدل کی کفر سے حفاظت فرمائی ہےجو مجھ سے دنیا کا سوال کررہے ہو؟اس پر انہوں نے مٹی لے کراپنے سر پر ڈالی اور عرض گزار ہوئے:کیوں نہیں!اے میرے رب!میں اس بات پر راضی ہوں پس تو کفر سے میری حفاظت فرما۔
	جب عارِفِیْن اپنے بلند وبالا مقام اور ایمان کی قوت کے باوجود برے خاتمے سے خوف زدہ ہوتے ہیں تو پھر کمزور لوگوں کو تو اس سےزیادہ  ڈرتے رہنا چاہئے۔
	بُرے خاتمے اور نفاق کے چند اسباب ہیں جو موت سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔مثلاً: بدعت،تکبُّر اور دیگر بُری صفات ۔صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نفاق سے بہت زیادہ خوف زدہ رہا کرتے تھے۔چنانچہ
	حضرت سیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اگر مجھے  اس بات کا علم ہوجائے کہ میں نفاق سے آزاد ہوں تو یہ مجھے ان تمام چیزوں کے ملنے سے زیادہ پسند ہے جن پر سورج طُلُوع ہوتا ہے۔
	یہاں نِفاق سے مراد وہ نہیں جو کہ اصْلِ ایمان کی ضد ہے (جسے نفاقِ اعتقادی بھی کہا جاتا ہے)بلکہ وہ نفاق
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…وہ دھاگہ یا ڈوری جو ہندو گلے سے بغل کے نیچے تک ڈالتے ہیں اور عیسائی،مجوسی اور یہودی کمر میں باندھتے ہیں۔(اردولغت تاریخی اصول پر،۱۱/ ۱۶۲)