خاتمے کا خوف لاحق رہتا ہے،یہ فرمانِ باری تعالیٰ انہی کے بارے میں ہے:
وَ قُلُوۡبُہُمْ وَجِلَۃٌ (پ۱۸،المؤمنون:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ان کے دل ڈررہے ہیں۔
(5)…حضر ت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا جب وقَتِ وصال آیا تو آپ نے رونا اور گھبرانا شروع کردیا۔ عرض کی گئی:اے ابو عبداللہ!امید رکھئے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فضل وکرم آپ کے گناہوں سے بڑا ہے۔ارشادفرمایا: کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اپنے گناہوں پر رورہاہوں؟اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ میری موت ایمان پر ہوگی تو پھر مجھے کوئی پروانہیں اگرچہ میں پہاڑوں کے برابر گناہ لےکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضری دوں۔
(6)…خوفِ خدا رکھنے والے ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک مسلمان بھائی کو وصِیَّت کرتے ہوئے فرمایا:جب میری وفات کا وقت قریب آئے تو میرے سرہانے بیٹھ جانا، اگر تم دیکھو کہ میرا خاتمہ ایمان پر ہوا ہے تو میری ملکیت میں موجود تمام سامان جمع کرکے اس کے عوض بادام اور شکَّر خرید کر شہر کے بچوں میں تقسیم کردینا اور کہنا کہ یہ قید سے چھوٹنے والے ایک شخص کی آزادی کی خوشی میں ہے،اگر میری موت ایمان پر نہ ہو تو لوگوں کو اس بات کی خبر کردینا تاکہ وہ دھوکے کا شکا رہوکر میرے جنازے میں شریک نہ ہو ں اور جسے آنا ہو وہ سوچ سمجھ کر آئے تاکہ میں مرنے کے بعد ریا کاری کا شکارنہ ہوجاؤں۔اس شخص نے عرض کی:مجھے اس بات کا علم کیسے ہوگا کہ آپ کا خاتمہ ایمان پر ہوا یا نہیں؟ انہوں نے ایک علامت بیان فرمائی(1)۔اس شخص نے بیا ن کردہ علامت کےمطابق آپ کی موت کو ایمان پر پایاتو حسْبِ وصیت شکَّر اور بادام خرید کر تقسیم کئے۔
(7)…حضرت سیِّدُناابومحمدسَہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرمایا کرتے تھے:مرید کو گناہوں میں مُلَوَّث ہونے کا جبکہ عارف کو کفر میں مبتلا ہونے کا خوف ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…وہ علامت یہ تھی کہ اپنی انگلی میری ہتھیلی میں رکھ دو،اگر موت کے وقت میں اسے مضبوطی سے دبالو ں تو سمجھ لینا کہ میری موت ایمان پر واقع ہوئی ہے اور اگر میں تمہاری انگلی کو چھوڑدوں تو جا ن لیناکہ میری موت ایمان پرنہیں ہوئی۔اس شخص نے ایسا ہی کیا۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۴۴۹ )