Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
507 - 882
 مارنے والی ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔دلوں کو پھیرنے والے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ عَذَابَ رَبِّہِمْ غَیۡرُ مَاْمُوۡنٍ ﴿۲۸﴾ (پ۲۹،المعارج:۲۸)	 
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ان کے رب کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں۔
سب سے بڑاجاہل:
	لوگوں میں سب سے بڑا جاہل وہ شخص ہے جو ان باتوں سے بے خوف رہے حالانکہ اسے بے خوفی سے پرہیز کی ہدایت کی گئی ہے،اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّعارفین پر لُطف وکرم فرماتے ہوئے رَجا(امید) کے اسباب کے ذریعے ان کے دلوں کو راحت نہ پہنچاتا تو خوف کی آگ سے ان کے دل جل جاتے۔رجا کے اسباباللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خا ص بندوں کے لئے رحمت ہیں جبکہ غفلت کے اسباب عام مخلوق کے لئے ایک اعتبار سے رحمت ہیں کیونکہ اگر عام لوگوں پر حقیقتِ حال ظاہر ہوجائے تو ان کی روح پرواز کرجائے اور دلوں کے پھیرنے والے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ 
ايمان  پر خاتمے کے متعلق آٹھ  اَقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو شخص میرے علم کے مطابق50سال سے توحید پر قائم ہے اگر میرے اور ا س کے درمیان ایک سُتُون حائل ہوجائے اور اسی دوران اس کی وفات ہوجائے تو میں قطعی طور پر اس کے ایمان پر خاتمے کی گواہی نہیں دے سکتا کیونکہ میں نہیں جانتا کہ اس وقت اس کے دل کی کیاکیفیت تھی۔
(2)…ایک اوربزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:اگر شہادت گھر کے دروازے پر جبکہ اسلام پر موت کمرے کے دروازے پر مل رہی ہو تو میں اسلام پر موت کو اختیار کروں گا کیونکہ میں نہیں جانتا کہ کمرے کے دروازے سے لے کر گھر کے دروازے تک پہنچنے میں میرے دل کی کیا کیفیت ہوگی۔
(3)…حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  اللہعَزَّ   وَجَلَّ کی قسم کھاکر فرمایا کرتے تھے کہ جو بھی شخص موت کے وقت اپنا ایمان سَلْب ہونے سےبے خو ف ہوتا ہے تو اس کاایمان سلب کرلیا جاتا ہے۔
(4)…حضرت سیِّدُناابومحمدسَہل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرمایا کرتے تھے:صِدِّیْقِیْن کو ہر وقت برے