Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
506 - 882
 کے دل توڑدیئے کیونکہ قیامت کبرٰی یہ ہے کہ تمہارا معاملہ ایسی ذات کی مشیت سے ملاہوا ہےجو تمہیں ہلاک بھی کردے تو اسے کوئی پروا نہیں اس نے تم جیسے بے شمار لوگ ہلاک کردیئے اور وہ ان کو دنیا میں طرح طرح کی تکلیفوں اور بیماریوں کے ذریعےعذاب دے رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کے دلوں میں کفر اور مُنافَقَت کی بیماری بھی ہے پھر وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ان کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: وَلَوْ شِئْنَا لَاٰتَیۡنَا کُلَّ نَفْسٍ ہُدٰىہَا وَ لٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیۡ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیۡنَ ﴿۱۳﴾ (پ۲۱،السجدة:۱۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اگر ہم چاہتے ہر جان کو اس کی ہدایت عطافرماتے مگر میری بات قرار پاچکی کہ ضرور جہنّم کو بھردوں گاان جنّوں اور آدمیوں سب سے۔
	نیزارشادفرمایا:   وَتَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمْلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ (پ۱۲،ھود:۱۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اورتمہارے رب کی بات پوری ہوچکی کہ بے شک ضرور جہنم بھردوں گا۔
	توجوقول ازل میں ثابت ہوچکا اس کا خوف کیسے نہ کیا جائے حالانکہ اس کے تدارُک کی طمع نہیں ہوسکتی اگرمعاملہ ابھی کا ہوتا تو طمع اس میں حیلہ کی طرف بڑھتی لیکن اب تو صرف تسلیم ہے اور سابِقہ مخفی بات کو دل اور اعضاء پر ظاہر ہونے والے واضح اسباب سے تلاش کرنا ہےتوجس شخص كے لئے برائی کے اسباب مہیا کردیئےگئے ،اس کے اور اسبابِ خیر کے درمیان رکاوٹ کھڑی کردی گئی اور دنیا کے ساتھ اس کے تعلق کو مضبوط کردیا گیاتو گویا اس کے لئے اس بات کو ظاہر کردیا گیا کہ اس کےحق میں بدبخت ہونے کا فیصلہ کردیا گیا ہےکیونکہ جو شخص جنت ودوزخ میں سے جس کے لئے پیدا کیاجاتا ہے اس کے لئے ویسے ہی اسباب  مہیا کئے جاتے ہیں۔اگر کسی شخص کو تمام نیکیوں کی توفیق حاصل ہو ،اس کادل مکمل طور پر دنیا سے کنارہ کش ہو اور ظاہِری وباطِنی طور پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف متوجہ ہو تو یہ باتیں خوف میں کمی کا تقاضا کرتی ہیں اگر اس بات کایقین ہو کہ اس حالت پر استقامت حاصل رہے گی لیکن بُرے خاتمے کا خوف اور نیکیوں پر استقامت کا مشکل ہونا خوف کی آگ کو مزید بھڑکا تےہیں اوراسے بجھنے نہیں دیتے۔ کوئی مومن اپنی قلبی حالت کے بدل جانے سے کیسے بے خوف ہوسکتا ہے جبکہ اس کا دل اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہےنیز انسان کا دل جوش