Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
505 - 882
 رازوں،اس کے خفیہ اَفعال اور ان صِفات کی کامل معرفت حاصل ہوتی ہے جن سے واقع ہونے والے بعض افعال کو خفیہ تدبیر کہا جاتا ہے۔کسی انسان کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ صِفاتِ باری تعالیٰ کی حقیقت پر مُطَّلَع ہوسکے،جو شخص معرفت کی حقیقت کو جان لیتااوراس بات کاادراک کرلیتا ہے کہ اس کی معرفت ان معاملات کی حقیقت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے تو لازمی طور پر اس کے دل میں بہت زیاد ہ خوف پیدا ہوجاتا ہے۔
	یہی وجہ ہے کہ جب روزِقیامتاللہ عَزَّ  وَجَلَّحضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سےارشادفرمائےگا: ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ ؕ (پ۷،المآئدة:۱۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:کیا تونے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھے اورمیری ماں کو دوخدا بنالو اللہکے سوا۔ 
	تو آپعَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوں گے: سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنْ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ ٭ بِحَقٍّ ؕؔ اِنۡ کُنۡتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ ؕ تَعْلَمُ مَا فِیۡ نَفْسِیۡ وَلَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیۡ نَفْسِکَ ؕ (پ۷،المآئدة:۱۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:پاکی ہے تجھے مجھے روا نہیں کہ وہ بات کہوں جو مجھے نہیں پہنچتی اگر میں نے ایسا کہا ہو تو ضرور تجھے معلوم ہوگا تو جانتا ہے جو میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے علم میں ہے۔
	نیز عرض گزار ہوں گے:  
اِنۡ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۱۸﴾  (پ۷،المآئدة:۱۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر تو انھیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک توہی غالب حکمت والا۔
	اس طرح سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام معاملے کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مشیت کے سپرد فرماکرخود کومکمل طور پر درمیان سے نکال لیں گے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ بخشش یا عذاب کا معاملہ آپ کے ہاتھ نہیں ہے۔بے شک اُمور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی مشیت سے اس طرح مربوط(ملے ہوئے) ہیں کہ عقل و الفت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ،لہٰذاان پر قیاس اور وہم و گمان سے بھی کوئی حکم نہیں لگایا جاسکتاتحقیق و یقین تو ایک طرف ہے۔اسی بات نے عارِفِین