Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
503 - 882
انبیائے کرامعَلَیْہِم ُالسَّلَامکے خوف کا سبب:
	انبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام پراللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف سے بے شمار عطاؤں اور نعمتوں کا سلسلہ ہوتا ہے اس کے باوجودوہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے لرزاں وترساں رہتے تھے ،اس کا سبب یہ تھا کہ یہ نُفُوسِ قُدسیہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے تھے۔(ارشادِباری تعالیٰ ہے:)
فَلَا یَاۡمَنُ مَکْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوۡنَ ﴿۹۹﴾٪ (پ۹،الاعراف:۹۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اللہکی خَفِی تدبیر سے نڈر نہیں ہوتے مگر تباہی والے۔ 
	منقول ہے کہ سرکارِ مدینہ،قرارِقلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماورحضرت سیِّدُناجبریل امین عَلَیْہِ السَّلَاماللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سےرورہے تھے،اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے وحی فرمائی:لِمَ تَبْكِيَانِ وَقَدْ اَمِنْتُكُمَایعنی تم دونوں کیوں رورہے ہوحالانکہ میں تمہیں امان دے چکا ہوں؟عرض کی:وَمَنْ يَّاْمَنُ مَكْرَكَیعنی اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ!تیری خفیہ تدبیر سے کون بے خوف ہوسکتا ہے؟(1)
	گویا یہ دونوں حضرات اس بات کو جانتے تھے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّعَلَّامُ الْغُیُوب(غیبوں کا جاننے والا) ہے جبکہ ہمیں(بغیر اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بتائے) معاملے کے انجام کی قطعی خبر نہیں ہے۔ یہ حضرات اس بات سے بے خوف نہیں ہوئے کہ کہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان:قَدْ اَمِنْتُکُمَایعنی میں تم دونوں کو امان دے چکا ہوں،ہمارے حق میں آزمائش،امتحان اور خفیہ تدبیر ہو  یہاں تک کہ ہمارا خوف دور ہوجائے اور یہ بات ظاہر ہوجائے کہ ہماللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سےبے خوف ہوچکے ہیں اور ہم نے اپنے وعد ے کو وفا نہیں کیا۔
	یہ معاملہ ایسے ہی ہے جیسےحضرت سیِّدُنا ابراہیم خَلِیْلُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جب منجنیق میں رکھ کر پھینکا گیاتو آپ نے ارشادفرمایا:حَسْبِیَ اللہ یعنی میرے لئےاللہعَزَّ وَجَلَّکافی ہے۔چونکہ یہ ایک بہت بڑا دعوٰی تھا اس لئے آ پ عَلَیْہِ السَّلَام کااِمتحان لیا گیا ، جب آپ ہوا میں تھے تو حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَامنےخدمت میں حاضر ہوکرعرض کی: کیا آپ کو کوئی حاجت ہے؟ارشاد فرمایا:ہاں! لیکن تم سےنہیں۔ اس طرح آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے قول کے تقاضے کو پورا کیا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس بات کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون،شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۸۲