Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
500 - 882
	یعنی جو کچھ ہونے والا ہےقلَمِ قدرت اسے لکھ کر فارغ ہوچکااور قیامت تک کے تمام مُعامَلا ت کا فیصلہ ہوگیا ہے، جب قیامت قائم ہوگی تووہ یا تو دنیا میں بلندی پانے والوں کو پست کردے گی،یا پھرپستی کا شکار رہنے والوں کو بلندی عطا کرے گی۔
	سورۂ تکویر میں قیامت کی ہولناکیوں کا نیز اس بات کا بیان ہے کہ روزِقیامت ہر شخص کو اس با ت کا علم ہوجائے  گاکہ اس کا ٹھکانا جنت ہے یا جہنم۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:  وَ اِذَا الْجَحِیۡمُ سُعِّرَتْ ﴿۪ۙ۱۲﴾ وَ اِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ ﴿۪ۙ۱۳﴾ عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْ ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۳۰،التکویر:۱۲تا۱۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجب جہنم کو بھڑکایا جائے اور جب جنت پاس لائی جائے ہرجان کو معلوم ہوجائے گا جو حاضر لائی۔
	سورۂ عم یتسائلونمیں ارشادِباری تعالیٰ ہے:
یَوْمَ یَنۡظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدَاہُ (پ۳۰،النبا:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دن آدمی دیکھے گا جو کچھ اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔
	ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے: لَا یَتَکَلَّمُوۡنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا ﴿۳۸﴾ (پ۳۰،النبا:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی نہ بول سکے گا مگر جسے رحمٰن نے اذن دیا اور اس نے ٹھیک بات کہی۔ 
خوفِ خدا پیدا کرنے والی چند آیات:
	جو شخص غور وتَدَبُّر کے ساتھ قرآنِ پاک کی تلاوت کرے اس کے لئے قرآنِ مجید میں شروع سے لے کر آخر تک حُصُولِ خوف کا سامان موجود ہے۔اگر قرآنِ پاک میں صرف یہی ایک آیت ہوتی:
(1)…  وَ اِنِّیۡ لَغَفَّارٌ لِّمَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اہۡتَدٰی ﴿۸۲﴾ (پ۱۶،طٰہٰ:۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اوربے شک میں بہت بخشنے والاہوں اسے جسے نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا پھر ہدایت پر رہا۔
	توبھی کافی تھا کیونکہ اس آیتِ مُقَدَّسہ میں مغفرت کوایسی  چار شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے جن میں سے ایک کو پورا کرنے سے بھی بندہ عاجز ہے۔اس سے بھی زیادہ سخت یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: