(3)…جانوروں والی صِفَت:
اس صفت سےلالچ اور پیٹ و شرم گاہ کی خواہشات کی تکمیل کی حرص پیداہوتی ہے اور اسی سے زِنا، لَواطَت، چوری، یتیموں کا مال کھانا اور محض خواہشات کی خاطردنیاکا سامان جمع کرنا اور ان جیسی بُرائیاں جنم لیتی ہیں۔
(4)…درندوں والی صِفَت:
اس صفت سےغَضَب و غُصّہ، کینہ، لوگوں کو مارنا پیٹنا، قتل کرنااوراَموال کو ضائع کرناجیسے اَفعال ظاہر ہوتے ہیں اور یہ صفت مزیدکئی گناہوں کی جڑہے۔
یہ چاروں صفات انسانی فطرت میں ایک ایک کرکے آتی ہیں۔سب سے پہلے جانوروں والی صفت کاغلبہ ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے پیچھے درندوں والی صفت آجاتی ہے۔ پھر جب یہ دونوں جمع ہوجاتی ہیں تو عقل کو دھوکےبازی اور حیلہ سازی کے لئے استعمال کرتی ہیں اور یہ شیطانی صفات ہیں۔ آخرکار صِفَتِ رَبُوبِیَّت غالِب آجاتی ہے اور وہ ہے فخر، عزت،سر بلندی، بڑائی کی طلب اور ساری مخلوق پر غالب آنے کی چاہت۔
یہ چارصفات گناہ کی جڑیں اور سرچشمہ ہیں۔ پھریہ کہ گناہ ان سرچشموں سےاَعضاءپر ظاہرہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض خاص طور پر دل میں ظاہر ہوتے ہیں جیسے کُفر، بِدْعَت، مُنافَقت اور لوگوں کے لئے (دل میں) بُرائی چھپانا۔ بعض آنکھ اور کان سے ظاہر ہوتے ہیں تو بعض زبان سے، بعض پیٹ و شرم گاہ سے ظاہر ہوتے ہیں تو کچھ ہاتھ اور پاؤں سے اوربعض کا تعلق سارے ہی بدن سے ہوتاہے۔ یہاں ان سب کی تفصیل کی حاجت نہیں کیونکہ یہ واضح ہیں۔
دوسری تقسیم:
جان لیجئے! گناہوں کی دو اقسام ہیں:(۱)وہ گناہ جو بندے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےدرمیان ہیں(۲)وہ گناہ جو حقوقُ العباد(یعنی بندوں کے حقوق) سے متعلق ہوتےہیں۔ جوخاص طورپر بندوں سے متعلق ہیں جیسے نماز وروزے کو چھوڑنا اورہر اس واجب کا ترک کرنا جو اس کی ذات کے ساتھ خاص ہے اور جو حقوقُ العبادسے متعلق ہیں وہ زکوٰۃ نہ دینا، کسی کو قتل کردینا، لوگوں کا مال دبالینا ، ان کی عزتوں کو پامال کرنااور ہروہ فعل جو غیر