جنت مبارک ہوتو اس موقع پر بھی سیِّدُالخائفین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہی کلما ت ارشاد فرمائے۔ اس کےبعداُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنااُمِّ سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرمایا کرتی تھیں:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!عثمان کے بعد میں کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گی۔
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے شہزادے حضرت سیِّدُنا محمد بن خَولہ حنفیہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!میں مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے علاوہ کسی کی پاکیزگی بیان نہیں کروں گایہاں تک کہ اپنے والد کی بھی نہیں۔جب رافضیوں کو اس بات کاعلم ہوا اور انہوں نے آپ پر دباؤ ڈالاتوپھرآپ نے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے فضائل ومَناقِب بیان کرنا شروع کئے۔
کسی کو جنتی کہنا کیسا؟
مروی ہے کہ اصحابِ صُفَّہ میں سے ایک صحابیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شہید ہوگئے تو ان کی والدہ نے کہا:تمہیں مبارک ہو کہ تم جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہو، تم نےرحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ہجرت کی اورراہِ خدا میں شہید کئے گئے۔اس پرسرکارِ مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:وَمَا يُدْرِيْكِ لَعَلَّهٗ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِمَا لَا يَنْفَعُهٗ وَيَمْنَعُ مَا لَا يَضُرُّهٗیعنی تمہیں کیاخبر؟ ہوسکتا ہے کہ یہ بے فائدہ گفتگو کیا کرتا ہواور ایسی چیز کو روک کر رکھتا ہو جس کے خر چ کرنے میں اس کا کوئی نقصان نہ ہو۔(1)
ایک روایت میں ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ایک بیمار صحابی کی عیادت کے لئےتشریف لے گئے تو ایک عورت کو یہ کہتے سنا:تمہیں جنت کی مبارک باد ہو۔یہ سن کرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:یہ عورت کون ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّپرحکم چلارہی ہے؟مریض نے عرض کی:یارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ میری والدہ ہیں۔ارشاد فرمایا:وَمَا يُدْرِيْكِ لَعَلَّ فَلَانًـا كَانَ يَتَكَلَّمُ بِمَا لَا يَعْنِيْهِ وَيَبْخَلُ بِمَا لَا يُغْنِيْهِیعنی تمہیں کیا معلوم؟ہوسکتا ہے کہ فلاں شخص بے فائدہ گفتگو کرتا ہو اور ایسی چیز کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند ابی یعلی موصلی ،مسند انس بن مالک،۳/ ۳۷۶ ،لحدیث:۴۰۰۴، باختلاف بعض الالفاظ