جو شخص نورِ ہدایت کے ذریعے ا س معاملے کے سبب کو جانتا ہے وہ ان خصوصی عارفین کے گروہ میں شامل ہے جو تقدیر کے راز پر مطلع ہیں جبکہ جو بندہ محض سن کر ایمان لاتا اور تصدیق کرتا ہے وہ عام مؤمنین میں سے ہے اور ان دونوں قسم کے لوگوں کو خوف کی دولت حاصل ہوتی ہےاگرچہ دونوں کے خوف میں فرق ہوتا ہے۔ہر انسان اسی طرح قدرت کے قبضے میں ہے جیسے کوئی کمزور بچہ درندے کے پنجوں میں ہو، کبھی یہ درندہ اِتِّفاق سے اس سے غافل ہوجاتا اور اسے چھوڑدیتا ہے اور کبھی اسے چیر پھاڑ کر کھالیتا ہے ۔یہ دونوں صورتیں حسْبِ اِتِّفاق ہوتی ہیں لیکن اس اتفاق کے بھی کثیر اسباب ہیں جو کہ ایک معلوم مقدار میں مرتب ہیں ،جب ان اسباب کی نسبت ایسے شخص کی طرف کی جائے جو انہیں نہیں جانتا تو اسے اتفاق کہتے ہیں لیکن جب ان کی نسبتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم کی طرف کی جائے تو پھر انہیں اتفاق کہنا جائز نہیں۔
درندے کے پنجوں میں پھنسنے والے شخص کو اگر کامل معرفت حاصل ہو تو وہ درندے سے خوف زدہ نہیں ہوگا کیونکہ درندہ بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کا پابند ہے،اگراللہ عَزَّ وَجَلَّاس پر بھوک مُسَلَّط فرمادے تو وہ اس شخص کو چیر پھاڑ کر کھالے گا اور اگر اس پر غفلت طاری فرمادے تو اس کا راستہ چھوڑ کر اسے جانے دے گا، پس ایسا شخص درندے سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس درندے اور اس کی صفات کے خالقاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف زدہ ہوگا۔
درندے کا خوف درحقیقت خوفِ خدا ہی ہے:
میں یہ نہیں کہتا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف کی مثال درندے سے خوف کی طرح ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو درندے کا خوف درحقیقتاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہی خوف ہے کیونکہ درندے کے واسطے سے ہلاک کرنے والااللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔
یہ جان لیجئے کہ آخرت کے درندے دنیوی درندوں کی طرح ہیں،اللہ عَزَّ وَجَلَّنے عذاب اور ثواب کے اسباب کوتخلیق فرمایا ہے اور ایسے لوگوں کوبھی پیدا کیا ہے جو عذاب یا ثواب کے حق دار ہیں اور جو جس کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اَزَلی تقدیر اسے اس کی جانب ہانک کر لے جاتی ہے۔چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے جنت کی تخلیق فرماکر جنتیوں کو پیدا فرمایااور انہیں اسبابِ جنت کے لئےپابند فرمادیا ہے خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں،اسی طرح دوزخ کو پیدا فرماکر دوزخیوں کو پیدا کیا اور انہیں اسبابِ جہنم کے لئےپابند فرمادیا ہےخواہ وہ اس پر راضی ہوں یا نہ ہوں۔