Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
495 - 882
 نے غفلت،شہوت اور قضائے شہوت پر قدرت کو پیدا کیا تو ان اُمور کے ذریعے فعل ضرور واقع ہوگا اگر اس نے اسے اس لئے دور کیا کہ اس نے نافرمانی کی ہے تو اس نے اسے گناہ کی طرف کیوں متوجِّہ کیا کیا یہ کسی سابقہ گناہ کی سزا ہے کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہویا پہلے گناہ پر ہی ٹھہر جائے جس کے لئے بندے کی طرف سے کوئی عِلَّت نہیں ہے بلکہ اس نے تو اَزَل میں ہی فیصلہ فرمادیا تھا۔اسی مفہوم کو حضورنبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں بیان فرمایا ہے۔چنانچہ
سیِّدُناآدم وسیِّدُناموسٰیعَلَیْہِمَا السَّلَام کا مُباحثہ:
	حضرت آدمصَفِیُّاللہاورحضرت موسٰیکَلِیْمُاللہ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے درمیاناللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں مُباحَثہ ہوا جس میں حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامحضرت موسٰیعَلَیْہِ السَّلَامپر غالب آگئے۔ حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:آپ وہ آدم ہیں جنہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے دسْتِ قدرت سے پیدا فرمایا،آپ میں اپنی  طرف کی پسندیدہ روح پھونکی،اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا،آپ کو جنت میں ٹھہرایااورپھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اتاردیا۔حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:آپ ہی وہ موسٰی ہیں جنہیںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنی پیغمبری اور ہم کلامی کے لئے مُنْتَخَب فرمایا،آپ کو(تورات کی)تختیاں عطا فرمائیں جن میں ہر چیز کا کھلا بیان تھااور آپ کو اپنی خُصُوصی ہم کلامی سے قرب بخشا،یہ تو بتائیے کہ آپ کی معلومات کے مطابقاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے میری پیدائش سے کتنا عرصہ قبل تورات کو تحریر فرمادیا تھا؟حضرت موسٰی  عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:(آپ کی پیدائش سے)40 سال پہلے۔حضرت آدمعَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:کیا آپ نے تورات میں یہ فرمانِ باری تعالیٰ پایا تھا: وَعَصٰۤی اٰدَمُ رَبَّہٗ فَغَوٰی ﴿۱۲۱﴾۪ۖ (پ۱۶،طٰہٰ:۱۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اورآدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی توجو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔
	حضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:جی ہاں!حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامنے فرمایا:’’تو کیا آپ مجھے اس لغزش پر ملامت کرتے ہیں جس کا کرنا میرےمقدر میں میری پیدائش سے 40 سال پہلے لکھا جاچکا تھا۔‘‘اس طرح حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامحضرت موسٰی عَلَیْہِ السَّلَامپر غالب آگئے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب القدر، باب حجاج ادم و موسٰی علیھما السلام، ص ۱۴۲۶،حدیث:۲۶۵۲