سانپ سے بھاگتا تھا اسی طرح اب اس سپیرے کی دیکھا دیکھی سانپ کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
جن عقائد کو بندہ کسی کی تقلید کرتے ہوئےاپناتا ہے ان کا اکثریہی حال ہوتا ہےکہ وہ کمزور ہوتے ہیں لیکن اگر بندہ مستقل طور پر ان عقائد کی تاکید کرنے والے اَسباب کا مُشاہَدہ کرتا رہے اور طویل مدت تک اِستقامت کے ساتھ ان کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے نیکیوں کی بجاآوری اور گناہوں سے اِجتناب کرتا رہے تو یہ عقائد پختہ اور راسِخ ہوجاتے ہیں۔
جو بندہ معرفت کے بلند مقام پر فائز ہوجائےاوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پہچان حاصل کرلےوہ بہرصورت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے خوف زدہ رہتا ہےاوراسے حصولِ خوف کے لئے کسی علاج کی ضرورت نہیں پڑتی جیسے کوئی شخص درندے کو پہچانتا ہو اور اپنے آپ کو اس کے پنجوں میں دیکھے تو اسے اپنے دل میں خوف پید ا کرنے کے لئے کسی تکلف کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ چاروناچار وہ اس سے خوف زدہ ہوجائے گااسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی فرمائی:مجھ سے اس طرح خوف کرو جس طرح تم نقصان پہنچانے والے درندے سے خوف کرتے ہو۔
نقصان پہنچانے والے درندے کا خوف پانے کا طریقہ یہ ہے کہ اس درندے اور اس کے پنجوں میں پھنسنے کی معرفت حاصل کی جائے ،اس کے علاوہ کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں۔اسی طرح جو شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت حاصل کرلیتا ہےوہ اس بات کو جانتا ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّجو چاہتا ہے وہ کرتا ہے،اسے کسی کی پروا نہیں اور وہ جو چاہے حکم فرماتا ہے اسے کسی کا کوئی خوف نہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے فرشتوں کو کسی سابِقہ وسیلے کے بغیر اپنا قرب عطا فرمایا جبکہ ابلیس کو اس کے کسی گزشتہ جرم کے بغیر دور فرمادیا،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی شان تو وہ ہےجو اس نے حدیْثِ قدسی میں ارشاد فرمائی ہے: هٰؤُلَاءِ فِی الْجَــنَّةِ وَلَا اُبَالِیْ وَهٰؤُلَاءِ فِی النَّارِ وَلَا اُبَالِیْیعنی یہ لوگ جنت میں جائیں مجھے پروا نہیں ،یہ لوگ دوزخ میں جائیں مجھے پروا نہیں۔
اگر تمہارے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ وہ صرف گناہ پر عذاب دیتا اوراطاعت پر ہی ثواب عطا فرماتا ہےتو غور کرو اس نے اطاعت کرنے والے کواسبابِ اطاعت کی طرف نہیں کھینچا کہ وہ چاہے تو اطاعت کرے یا نہ کرےاورنہ ہی نافرمان کو اسبابِ گناہ کی طرف کھینچا کہ وہ چاہے تو گناہ کرے یا نہ کرے۔جب اس