Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
493 - 882
وَ یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗؕ (پ۳،اٰل عمرٰن:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہتمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔
	ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے:  اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۰۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہسے ڈرو جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
	پہلی قسم: یعنی عذابِ الٰہی سے خوف عام مخلوق کاحصہ ہے اوریہ خوف جنت ودوزخ پر نیز ان کے اِطاعت ونافرمانی کا بدلہ ہونے پر ایمان سے حاصل ہوتا ہے۔یہ خوف کبھی کمزور ہوتا ہے اورکبھی مضبوط۔ اس کی کمزوری کا سبب غفلت اور ایمان کی کمزوری ہوتی ہے،اس غفلت کا علاج وعظ ونصیحت سے نیز قیامت کی ہولناکیوں اور آخر ت میں دیئے جانے والے مختلف قسم کے عذابات میں مسلسل غور وفکر سے کیا جاسکتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ خائفین کے حالات میں نظر کرنےاور ان کی صحبت اختیار کرکے ان کی زندگی کا مُشاہَدہ کرنے سے بھی غفلت کو دور کیا جاسکتا ہے ،اگر کسی کو خائفین کی صحبت دستیاب نہ ہو تو ان کے اَحوال کو سننا بھی فائدے اور اثر سے خالی نہیں ہے۔ 
	دوسری قسم: یعنی ذات باری تعالیٰ سے خوف کرنا اَرفع واعلیٰ مقام کاحامل ہے۔ اس خوف سے مراد یہ ہے کہ بندہاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دوری اور اس کے دیدار سے محرومی سے خوف زدہ ہو اور اس کے قُرب کی امید رکھے۔حضرت سیِّدُنا ذُوالنُّون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:دوزخ کا خوفاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے جدائی کےخوف کے مقابلے میں ایسا ہے جیسے گہرے دریا کے مقابلے میں چند قطرے۔
	یہ خوف علمائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکو حاصل ہوتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا فرمانِ عالی شان ہے:
اِنَّمَا یَخْشَی اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا ؕ(پ۲۲،فاطر:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہسے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ 
	عام مؤمنین کو بھی اس خوف کا کچھ حصہ حاصل ہوتا ہے لیکن وہ مَحْض تقلید کے طور پر ہوتا ہے جیسا کہ باپ کی پیروی کرتے ہوئے بچہ سانپ سے خوف کرتا ہے چونکہ اس قسم کے خوف میں بصیرت اور معرفت کا کوئی دخل نہیں ہوتا اس لئے یہ کمزور ہوتا ہے اور بہت جلد زائل ہوجاتا ہے یہاں تک کہ بعض اوقات بچہ کسی سپیرے کو دیکھتا ہے کہ وہ سانپ کو پکڑتا ہے تو اسے دیکھ کر بچہ دھوکا کھاجاتا ہے اور جس طرح باپ کی تقلید کرتے ہوئے